رسائی کے لنکس

ترکی کی مصر سے تجدیدِ تعلقات کی کوشش، پس پردہ حکمت عملی کیا ہے؟


ترکی کے صدر رجب طیب اردوان انقرہ میں خطاب کرتے ہوئے۔ مارچ 2 ,2021.

ترکی اور مصر کے درمیان،برسوں تک تعلقات میں کشیدگی کے بعد، اب تجدید تعلقات کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ترکی اپنی عالمی تنہائی کو ختم کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔

ترکی کے وزیرِ خارجہ میولِت چاووشوغلو نے مصر کے ساتھ تجدیدِ تعلقات کیلئے کی جانے والی سفارتی کوششوں کی تصدیق کی ہے۔اس ماہ کے آغاز پر، ترکی کے صدارتی ترجمان، ابراہیم کلین کا کہنا تھا کہ مصر اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے۔

ویسے تو مصر اور ترکی روایتی طور پر اتحادی رہے ہیں، لیکن سن دوہزار تیرہ میں مصری صدر محمد مرسی کے برطرفی کے بعد، تعلقات میں سرد مہری آنا شروع ہو گئی، اور دونوں ملکوں نے اپنے اپنے سفارتکار ایک دوسرے کے ملکوں سےواپس بلا لئے۔

محمد مرسی، ترک صدر رجب طیب اردوان کے قریبی اتحادی تھے، اور بر طرف مصر ی لیڈر کی جماعت اخوان المسلمین کے حامیوں کی پکڑ دھکڑ پر انہوں نے بر سر عام دکھ کا اظہار کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکی کی جانب سے عرب ملکوں میں شروع ہونے والی عرب سپرنگ نامی تحریک کے دوران اخوان المسلمین کی حمایت، مشرق وسطیٰ میں ان کی مسلمان یکجہتی کے نظریات کے فروغ کی کوشش کا حصہ تھی۔ اور اب اردوان اس پالیسی سے واپسی کیلئے راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

انقرہ میں قائم، تھنک ٹینک، فارن پالیسی انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ، حسین باجچ کہتے ہیں کہ اخوان المسلمین کی حمایت کرنا ایک غلطی تھی۔ تاہم اب ترک حکومت کو اندازہ ہو گیا ہے کہ اخوان کے اقتدار میں واپس کے ذرا سے بھی امکانات نہیں ہیں، اس لئے اُس پالیسی پر گامزن نہیں رہا جا سکتا۔

باجچ کہتے ہیں کہ اردوان کیلئے مسئلہ یہ ہے کہ اپنی سابقہ پالیسی سے کیسے واپس مڑا جائے، کیونکہ ترکی واضح الفاظ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اخوان المسلمین کی حمایت نہیں کرتا، اور اردوان یہ کھلے عام کہیں گے بھی نہیں۔ تاہم،شاید وہ آہستہ آہستہ مصر کے صدر الفتح السیسی کی مخالفت پر مبنی سرکاری موقف سے دور ہوتے جائیں، لیکن ساتھ ہی وہ کبھی السیسی سے ہاتھ نہیں ملائیں گے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ترکی کو مصر سے دور ہونے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ ترکی کے اس اقدام کی وجہ سے، گزشتہ سال، مصر نے ترکی کے حریف یونان کے ساتھ بحیرہ روم میں تعمیر و ترقی کے ایک سمجھوتے پر دستخط کئے تھے۔ بحیرہ رَوم میں توانائی کے حالیہ وسائل اور ذخائر کی وجہ سے یونان اور ترکی میں علاقائی تنازعات کا سلسلہ چل نکلا ہے۔

علاقائی تجزیہ کار، ترکی کے ریٹائرڈ ایڈمرل چیم گڈےنائز کہتے ہیں کہ مصر ترکی کی مخالفت، اس کی اخوان المسلمین کی حمایت پر مبنی پالیسیکی وجہ سے کرتا رہا ہے۔ ان کے بقول، ترکی جب اپنی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دے گا، تو ترکی اور مصر کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔

ترکی کے وزیر دفاع ہولوسی آکار کا ہفتے کے روز کہنا تھا کہ ترکی مصر کے ساتھ تجدید تعلقات کے قریب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی اور مصر کے درمیان بہت سےثقافتی اور تاریخی اقدار مشترک ہیں۔

ترکی مصر کے ساتھ بحیرہ روم میں کسی سمجھوتے کا خواہاں ہے، تا کہ مصر کے یونان کے ساتھتعلقات کو کمزور کیا جا سکے۔

حسین باجچ کہتے ہیں کہ مصر اب تک ترکی کی پیشکش پر کوئی بیان دینے سے گریز کر رہا ہے۔

حال ہی میں ترکی نے مصر کے ایک اور قریبی اتحادی فرانس کے ساتھ بھی بات چیت کا آغاز کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ترک صدر اردوان کی فرانس کے صدر ایمینوئیل میکرون کے ساتھ ویڈیو لنک پر بات چیت کے بعدجاری ہونے والے صدارتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی اور فرانس ، یورپ سے لے کر، کاکیشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ تک سلامتی، استحکام، اور امن کیلئے خاطر خواہ خدمات انجام دے سکتے ہیں۔

ابھی زیادہ دیر نہیں گزری کہ ترک اور فرانسیسی لیڈر ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دے رہے تھے، جس کے بعد فرانس نے ترکی سے اپنے سفیر کو عارضی طور پر واپس بلا لیا تھا۔

استنبول میں قائم قادر ہاس یونیورسٹی سے وابستہ بین الاقوامی تعلقات کے ماہر اور تجزیہ کار سولی اوزال کا کہنا ہے کہ ترکی اب سفارتکاری کی اہمیت کو سمجھ رہا ہے۔ سولی اوزال نے ترکی کی لیبیا سے لیکر شام اور عراق میں فوجی تنازعات میں شمولیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ملک کب تک ٹھوس طاقت پر انحصار کر سکتاہے، خصوصا جب یہ ایک انتہائی مہنگا منصوبہ ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG