رسائی کے لنکس

logo-print

لیبیا میں ترکی کے رویے کو برداشت نہیں کریں گے: فرانس


صدر امانیئول میکخواں (فائل)

فرانس کے صدر ایمانول میکخواں نے کہا ہے کہ ترکی لیبیا میں جو کھیل کھیل رہا ہے وہ امن کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے، اور انقرہ کا یہ رویہ ناقابل برداشت ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، ترکی طرابلس میں قائم اقوام متحدہ کی زیر حمایت حکومت کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ اس حکومت کے فوجی مخالف لیڈر جنرل خلیفہ حفتار کی فوجوں سے بر سر پیکار ہیں۔

پیر کے روز پیرس میں تیونس کے صدر قیس سعید کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں فرانس کے صدر نے ترکی پر الزام لگایا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے پابندی کے باوجود وہ لیبیا کو اسلحے کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے۔

انھوں نے کہا کہ ترکی یورپی یونین کی جانب سے لیبیا میں ہر قسم کی غیر ملکی مداخلت ختم کرنے کے فیصلے کو بھی نظر انداز کر رہا ہے۔

صدر میکخواں نے کہا کہ ''میں نے ترکی کے صدر ایردوان کو یہ بات واضح طور پر بتا دی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ترکی لیبیا میں ایک خطرناک کھیل کھیل رہا ہے اور اس نے برلن کانفرنس میں جو وعدے کیے تھے، یہ ان کی صریحاً خلاف ورزی ہے''۔

دو ہفتے قبل بحیرہ روم میں ترکی اور فرانس کے بحری جنگی جہازوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا تھا۔ اس کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ ہو گیا۔

فرانس کا کہنا ہے کہ فرانس کا جہاز نیٹو کے اس مشن پر جا رہا تھا کہ وہ یہ تفتیش کرے کہ ترکی کا جہاز کہیں لیبیا اسلحہ تو اسمگل نہیں کر رہا۔ اس موقعے پر ترکی کے جہاز سے فلیش ریڈار پھینکے گئے اور ترکی کے ملاحوں نے ہلکے ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ ترکی ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

اس وقت لیبیا میں دو متحارب گروپوں کی حکومت ہے۔ طرابلس میں الگ حکومت ہے جب کہ ملک کے مشرقی حصوں میں حفتار کی حکومت ہے۔

حفتار کی حمایت روس، مصر اور متحدہ عرب امارات کر رہے ہیں۔

پچھلے ایک سال سے دارالحکومت طرابلس پر قبضہ حاصل کرنے لیے شدید لڑائی جاری ہے۔ ابھی تک دونوں فریق جمے ہوئے ہیں اور یہ لڑائی فیصلہ کن ثابت نہیں ہو سکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG