رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں بمباری کے بعد تناؤ میں اضافہ، ترکی کا روس کو انتباہ


ترکی کے صدر نے ماسکو کو متنبہ کیا ہے کہ انقرہ قدرتی گیس کی درآمد اور اپنے پہلے جوہری توانائی پلانٹ کے لیے دیگر شراکت داروں سے رابطہ کر سکتا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے شام میں روسی بمباری کی مہم پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ماسکو کو متنبہ کیا ہے کہ انقرہ قدرتی گیس کی درآمد اور اپنے پہلے جوہری توانائی پلانٹ کے لیے دیگر شراکت داروں سے رابطہ کر سکتا ہے۔

ترکی روس سے قدرتی گیس حاصل کرنے والے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے اور اس نے یوکرین سے ہٹ کر یورپ کو گیس فراہم کرنے والی ایک بڑے پائپ لائن منصوبے "ترک اسٹریم" میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رکھا ہے۔

روس نے بھی بحیرہ روم کے ساحلی علاقے اکویو میں ترکی کے پہلے جوہری توانائی پلانٹ کی تعمیر میں مدد کا کہہ رکھا ہے۔ 20 ارب ڈالر کا یہ متنازع منصوبہ ہے جس کا مقصد ترکی کی توانائی کی ضروریات کو مقامی سطح پر پورا کرنا ہے۔

لیکن جاپان کے دورے پر روانہ ہونے سے پہلے جمعرات کو اردوان نے صحافیوں کو بتایا کہ اس طرح کا تعاون شام میں ماسکو کی بمباری اور ترک فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے خطرے میں ہے۔

"ہم روسی قدری گیس کے سب سے بڑے خریدار ہیں، اگر ضرورت پڑی تو ترکی کئی دیگر جگہوں سے بھی گیس حاصل کر سکتا ہے۔"

2013ء میں دونوں ملکوں کے درمیان جوہری معاہدے پر دستخط ہوئے تھے لیکن اس منصوبے کے آغاز کی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی اور اس بارے میں بھی اردوان کا کہنا تھا کہ ترکی کو کھو کر روس کو بہت بڑا نقصان ہوگا۔

"اگر روس نہیں تو بہت سے دوسرے اکویو پلانٹ تعمیر کر سکتے ہیں۔"

نیٹو اتحاد میں شامل ترکی، شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کو مضبوط کرنے روس کی فضائی کارروائیوں پر برانگیختہ ہے۔ انقرہ اسد کی اقتدار سے علیحدگی کا حامی ہے۔

XS
SM
MD
LG