رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی خواتین پر تشدد روکنے کے بین الاقوامی معاہدے سے باضابطہ طور پر الگ ہو گیا


معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کے بعد اس کے حامیوں کی جانب سے مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔ فائل فوٹو

ترکی نے خواتین پر تشدد کو روکنے کے بین الاقوامی معاہدے سے باضابطہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی ہے۔

قبل ازیں مارچ میں جب صدر ایردوان نے اس معاہدے سے دست بردار ہونے کا اعلان کیا تھا تو ترکی کے مغربی اتحادیوں اور ملک کے اندر بھی اس فیصلے کی مذمت کی گئی تھی۔

رواں ہفتے اس معاہدے سے علیحدگی کو روکنے کے لیے درخواست عدالت سے مسترد ہونے کے بعد ہزاروں افراد نے احتجاج بھی کیا تھا۔ جمعرات کو ترکی نے باضابطہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔

فیڈریشن آف ٹرکش ویمن ایسوسی ایشن کی صدر جانان گولو کا کہنا ہے کہ ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی نے یہ فیصلہ کرکے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔

جانان گولو نے کہا کہ مارچ کے بعد سے صورتِ حال یہ ہے کہ خواتین اور خطرات کا شکار دیگر سماجی گروہ مدد طلب کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں اور ان کی داد رسی کے امکانات بھی کم ہو گئے ہیں۔ جب کہ کرونا وبا کے باعث پیدا ہونے والی معاشی مشکلات نے ان گروہوں کے خلاف تشدد میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔

استنبول کنوینشن

گھریلو تشدد روکنے اور برابری کو فروغ دینے کے لیے 2011 میں ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول میں یہ معاہدہ ہوا تھا جسے اسی مناسبت سے ’استنبول کنونشن‘ کا نام دیا گیا تھا۔

مارچ میں جب ترکی نے اس معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تو امریکہ اور یورپی یونین نے اس فیصلے کی مذمت کی تھی۔

ترکی میں خواتین کے قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اس کی شرح روزانہ ایک قتل ہو گئی ہے۔

حامی اور ناقدین کیا کہتے ہیں؟

اس معاہدے اور متعلقہ قوانین کے حامی ان کے سختی سے نفاذ کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ البتہ ترکی میں روایت پسند حلقے اور ایردوان کی اسلام پسندی کا پس منظر رکھنے والی اے کے پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ خاندانی نظام کو کمزور کر رہا ہے جو ترک سوسائٹی کا محافظ ہے۔

بعض حلقوں کے خیال میں اس معاہدے میں جنسی رجحان کی بنیاد پر امتیاز نہ کرنے کے اصول سے ہم جنس پرستی کو فروغ ملے گا۔

صدر ایردوان کے دفتر کے عدالت میں جمع کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کنونشن سے دست برداری ملک کو خواتین کے خلاف تشدد کے انسداد میں کسی قانونی یا عملی رکاوٹ کا باعث نہیں بنے گی۔

رواں ماہ کونسل آف یورپ کمشنر فار ہیومن رائٹس دنجے مائیجاتووک نے ترکی کی داخلہ اور انصاف کی وزارتوں کو اپنے خط میں بعض ترک حکام کی جانب سے معاہدے پر تنقید کے دوران ہم جنس پرستی کے مخالف بیانیے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

اپنے خط میں ان کا کہنا تھا کہ استنبول کنونشن میں ایسے اقدامات بیان کیے گئے ہیں جو خاندان کو مضبوط بناتے ہیں اور اس کی تباہی کے اصل سبب یعنی تشدد کو روکنے کے لیے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG