رسائی کے لنکس

ترکی کی تارکین وطن کا معاہدہ منسوخ کرنے کی دھمکی


ترک مفرور فوجی افسر اپنی اپیل کی سماعت کے لیے یونان کی سپریم کورٹ میں جا رہے ہیں۔ 26 جنوری 2017

ترک وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فوجیوں کی واپسی کا مطالبہ ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے کیا ہے۔ یونان بغاوت کے منصوبہ سازوں کو تحفظ اور پناہ فراہم کر رہا ہے۔

ترکی نے یونان سے کہا ہے کہ وہ ان آٹھ ترک فوجیوں کو واپس کرے جو پچھلے سال ناکام فوجی بغاوت کے بعد فرار ہو کر یونان چلے گئے تھے بصورت دیگر وہ یونان کے خلاف اقدامات کر سکتا ہے جن میں ایتھنز کے ساتھ تارکین وطن کے معاہدے کی منسوخی شامل ہے۔

ترک حکومت کا یہ سخت موقف جمعرات کے روز یونان کی ایک عدالت کی جانب سے ترک فوجیوں کی ملک بدری کی اپیل مسترد کر نے کے بعد سامنے آیا۔

یونان کی سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز ترک فوجیوں کو ملک سے نکالنے کے خلاف فیصلہ دیا جنہوں نے عدالت سے سیاسی پناہ کی اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ملک واپسی پر انہیں اپنی جانوں کا خطرہ ہے۔

انقرہ نے انہیں غدار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فوجی جمہوری حکومت کے خلاف 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت میں شامل تھے۔

ترک وزیر خارجہ مولود اوغلو نے ایک سرکاری نشریے میں کہا ہے کہ ہم نے فوجیوں کی واپسی کا مطالبہ ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے کیا ہے۔ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے ۔ یونان بغاوت کے منصوبہ سازوں کو تحفظ اور پناہ فراہم کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ اس سلسلے میں ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ ہم نے یونان کے ساتھ تارکین وطن سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں ۔ اور ہم تارکین وطن کے دوبارہ داخلے کی منسوخی سمیت مختلف پہلوؤں پر غور کر رہے ہیں۔

یورپی یونین کے ایک ترجمان نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ تارکین وطن کے معاملے پر ترکی کے ساتھ تعاون ٹھوس انداز میں جاری رہے گا۔

ترکی کے اپنے ہمسایہ ملک یونان اور نیٹو اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں ایک سال پہلے بہتری آئی تھی، لیکن علاقائی تنازعات اور نسلی طور پر منقسم قبرص پر کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ 1996 میں دونوں ملک ایک غیر آباد جزیرے کے تنازع پر جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔

دونوں ملکوں نے تارکین وطن کے عشروں کے بدترین بحران سے نمٹنے میں یورپ کی مدد میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یورپی یونین بڑے پیمانے پر یورپ کی جانب نقل مکانی روکنے سے متعلق معاہدے پر عمل درآمد کے سلسلے میں انقرہ پر انحصار کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG