رسائی کے لنکس

logo-print

نیٹو کو ’کئی پیچیدہ مسائل‘ کا سامنا ہے: جنرل ڈیمپسی


ڈیمپسی نے کہا ہے کہ میزبان ترکی نیٹو کی مدد کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اور وہ ’درپیش مسائل‘ کو خوب سمجھتا ہے۔ دولت اسلامیہ کے ساتھ لڑائی ترکی کے دروازے پر لڑی جا رہی ہے، ایسے میں تقریباً 20 لاکھ شامی تارکین وطن، شدت پسندی سے بچ کر ترکی میں پناہ لے چکے ہیں

امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا ہے کہ نیٹو ارکان کو لازمی طور پر تسلیم کرنا چاہیئے کہ اتحاد کو متعدد پیچیدہ خطرات درپیش ہیں۔

نیٹو کے اعلیٰ ترین فوجی حکام نے ہفتے کو استنبول میں ایک اجلاس منعقد کیا، جس میں سکیورٹی کے معاملات زیر غور آئے۔ اجلاس میں افغانستان میں ’سپورٹ مشن‘، نیٹو کے مشرقی خطے میں روسی جارحیت کا خطرہ اور داعش کے شدت پسند گروہ کے خلاف لڑائی کے معاملات پر گفتگو شامل تھی۔

جنرل ڈیمپسی نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ، ’میں کبھی اُنھیں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش نہیں کیا کرتا کہ یہ اُس سے زیادہ خطرناک ہے‘۔

جو بات میں یقینی بنانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ تسلیم کرتے اور مانتے ہیں کہ کئی خطرات لاحق ہیں۔

ڈیمپسی نے کہا ہے کہ میزبان ترکی نیٹو کی مدد کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اور وہ ’درپیش مسائل‘ کو خوب سمجھتا ہے۔

دولت اسلامیہ کے ساتھ لڑائی ترکی کے دروازے پر لڑی جا رہی ہے، ایسے میں تقریباً 20 لاکھ شامی تارکین وطن، شدت پسندی سے بچ کر ترکی میں پناہ لے چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکی اور امریکی حکومت کے درمیان نااتفاقیوں کے نتیجے میں داعش کے گروپ کو اپنا اثر بڑھانے کا موقع ملتا ہے۔

XS
SM
MD
LG