رسائی کے لنکس

logo-print

جنسی اسکینڈل کے بعد ترک اپوزیشن جماعت کو مشکلات کا سامنا


ترکی کی حزبِ مخالف کی ایک اہم جماعت کے دو مرکزی رہنماؤں نے اپنے بارے میں انٹرنیٹ پر جاری کی گئی متنازعہ ویڈیوز منظرِ عام پر آنے کے بعد عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

دائیں بازو کی جماعت 'نیشنلسٹ ایکشن پارٹی' کے رہنماؤں بولینٹ ڈیڈنمیز اور احسان بروتکو کی جانب سے دیے گئے استعفیٰ ان ویڈیوز کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں دونوں رہنماؤں کو غیرازدواجی جنسی تعلقات میں ملوث دکھایا گیا تھا ۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ سامنے آنے والی ایسی ہی ویڈیوز کے بعد نیشنلسٹ ایکشن پارٹی کے دو دیگر رہنما بھی اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے تھے۔

نیشنلسٹ پارٹی کے عہدیداران کی جانب سے پارٹی رہنماؤں کے خلاف انٹرنیٹ پر مذکورہ ویڈیوز جاری کرنے کی ذمہ داری حکمران جماعت 'جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی' کے حامیوں پر عائد کیا گیا ہے تاہم حکمران جماعت نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

نیششنلسٹ پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف مذکورہ اسکینڈل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئندہ ماہ جون کی 12 تاریخ کو ہونے والے ترکی کے پارلیمانی انتخابات میں ایک ماہ سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق نیشنلسٹ پارٹی کو پارلیمان تک پہنچنے کیلیے عام انتخابات میں کم از کم 10 فی صد ووٹ حاصل کرنے کے آئینی تقاضہ کی تکمیل میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

XS
SM
MD
LG