رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی کا خشوگی کے قتل کی عالمی تحقیقات کرانے کا عندیہ


فائل فوٹو

کاوو سوغلو نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ خشوگی کا قتل دبانے کی کوشش کیوں ہو رہی ہے اور اس کے عوض کیا سمجھوتے کیے جا رہے ہیں۔

ترکی کے وزیرِ خارجہ میولت کاوو سوغلو نے کہا ہے کہ ان کا ملک سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کی بین الاقوامی تحقیقات کرانے کا ارادہ رکھتا ہے جو ان کے بقول جلد شروع ہوں گی۔

پیر کو انقرہ میں ایک تقریب سے خطاب میں ترک وزیرِ خارجہ نے الزام عائد کیا کہ بعض مغربی ممالک خشوگی کے قتل پر مٹی ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کاوو سوغلو نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ خشوگی کا قتل دبانے کی کوشش کیوں ہو رہی ہے اور اس کے عوض کیا سمجھوتے کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آزادیٔ صحافت کا نعرہ لگانے والے کس طرح پیسہ دیکھ کر اس قتل کو دبانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

لیکن ان کے بقول ترکی اس معاملے کو دبنے نہیں دے گا اور اس معاملے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچائے گا۔

ترک وزیرِ خارجہ میولت کاوو سوغلو
ترک وزیرِ خارجہ میولت کاوو سوغلو

ترک وزیرِ خارجہ نے حاضرین کو بتایا کہ اس مقصد کے لیے ترکی نے قتل کی بین الاقوامی تحقیقات کرانے کی تیاری کرلی ہے جس کے لیے ان کے بقول عن قریب ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

جمال خشوگی کو دو اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے میں قتل کردیا گیا تھا۔ سعودی حکام نے پہلے تو خشوگی کے قتل پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی تھی لیکن قتل سے متعلق شواہد سامنے آنے کے بعد بالآخر تسلیم کرلیا تھا کہ خشوگی قونصل خانے میں تفتیش کے دوران بعض سعودی اہلکاروں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

لیکن قتل کی تصدیق کے باوجود تاحال خشوگی کی باقیات کا علم نہیں ہوسکا ہے۔

ترک صدر کہہ چکے ہیں کہ خشوگی کے قتل کا حکم سعودی عرب کی حکومت کے کسی اعلیٰ ترین سطح کے ذمہ دار نے دیا تھا لیکن سعودی حکومت اس الزام کی تردید کرتی آئی ہے۔

اس قتل میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے کردار پر بھی انگلیاں اٹھتی رہی ہیں (فائل فوٹو)
اس قتل میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے کردار پر بھی انگلیاں اٹھتی رہی ہیں (فائل فوٹو)

اس قتل میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے کردار پر بھی انگلیاں اٹھتی رہی ہیں جن کے خشوگی سخت ناقد تھے اور انہیں اپنی تحریروں میں کڑی تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔

امریکی سینیٹ نے بھی اپنی ایک قرارداد میں قتل کی ذمہ داری سعودی ولی عہد پر عائد کی تھی اور امریکی حکومت سے ان کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔

سعودی حکام اس قتل کی کھلی تحقیقات اور ملزمان تک رسائی دینے کے ترکی کے مطالبات کو مسترد کرتے آئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ خود اس قتل کے ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے۔

قتل کے الزام میں ایک سعودی عدالت میں 11 افراد کے خلاف مقدمہ زیرِ سماعت ہے جن میں سے پانچ کو استغاثہ نے سزائے موت دینے کی درخواست کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG