رسائی کے لنکس

استنبول: شام پر دوسرا سہ فریقی سربراہ اجلاس بدھ کو ہوگا


فائل

ایک سابق ترک سفارت کار نے کہا ہے کہ ’’سنہ 2011 سے انقرہ کا خاص مقصد اسد کو ہٹانا تھا‘‘۔ شامی صدر بشار الاسد کا حوالہ دیتے ہوئے، اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’ایسے میں جب روس اور ایران اسد کی دعوت پر ہی شام آئے ہیں، تاکہ وہ عہدے پر براجمان رہیں، یہ ایک تضاد ہے‘‘

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان بدھ کے روز شام پر دوسری سہ فریقی سربراہ اجلاس کا انعقاد کر رہے ہیں، جس میں اُن کے روس اور ایران کے ہم منصب شرکت کریں گے۔

تینوں ملکوں کی فوج شام میں موجود ہے۔ وہ اُس امن عمل میں موجود ہیں جسے خودساختہ ’آستانہ عمل‘ کا نام دیا جاتا ہے، جس کا مقصد شام کی خانہ جنگی کے حل کے لیے رابطے بڑھا رہے ہیں۔

یہ رابطے ایسے میں فروغ پا رہے ہیں جب فریق کے درمیان رقابتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔

ایک سابق ترک سفارت کار، عبدالسیدین، جنھوں نے خطے میں خدمات انجام دی ہیں، کہا ہے کہ ’’سنہ 2011سے انقرہ کا خاص مقصد اسد کو ہٹانا تھا‘‘۔ شامی صدر بشار الاسد کا حوالہ دیتے ہوئے، اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’ایسے میں جب روس اور ایران اسد کی دعوت پر ہی شام آئے ہیں، تاکہ وہ عہدے پر براجمان رہیں، یہ ایک تضاد ہے‘‘۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایک دوسرے سے مانوس ہونے کی بنا پر، اب تک تمام فریق نے اپنی نااتفاقی پر قابو پایا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایک دوسرے سے مانوس ہونے کی بنا پر، اب تک تمام فریق نے اپنی نااتفاقی پر قابو پا لیا ہے۔ یہ بات اس کی غمازی کرتی ہے کہ اپنے علاقائی اہداف حاصل کرنے کے لیے اُنھیں ایک دوسرے کا تعاون درکار ہے، تاکہ بالآخر وہ اس سات برس پرانے تنازعے کو ختم کر سکیں۔

’آستانہ عمل‘ کے تحت، شام بھر میں خودساختہ جنگ بندی کے زون کا تعین کیا گیا ہے، جہاں باغی گروپ زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔ ترکی جس کے باغی گروپوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، اُس نے اس عمل کے تحت روس سے مل کر کام کیا ہے۔

بدھ کے روز کے اجلاس میں توقع ہے کہ ادلب کے شامی خطے پر دھیان مبذول رہے گا۔ رفتہ رفتہ ترک افواج وہاں تعینات کی جارہی ہیں، تاکہ جنگ بندی والے علاقے کا مشاہدہ کرنے کے لیے معائنے کی چوکیاں قائم کی جا سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG