رسائی کے لنکس

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 9 افراد کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا جن میں سے چار عراقی، تین صومالی اور دو شامی باشندے تھے۔ جب کہ ایک پناہ گزین لاپتا ہے۔

ترکی کے ساحل سے پناہ گزینوں کو یونان لے جانے والی کشتی الٹنے سے پانچ بچے اور دو عورتیں ہلاک ہو گئیں۔

جمعرات کی شام پیش آنے والے اس واقعہ کے متعلق ترکی کے سرکاری خبررساں ادارے اناطولیہ نے ساحلی محافظوں کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ کشتی صوبہ ازمیر کے ساحلی علاقے ایجیئن سے روانہ ہونے کے بعد ڈوب گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 9 افراد کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا جن میں سے چار عراقی، تین صومالی اور دو شامی باشندے تھے۔ جب کہ ایک پناہ گزین لاپتا ہے۔

اناطولیہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس اس انسانی سمگلر کو تلاش کر رہی ہے جس نے جب یہ دیکھا کہ کشتی ڈوبنا شروع ہو گئی ہے تو وہ اسے بے یارومددگار چھوڑ کر اپنی جان بچانے کے لیے فرار ہو گیا۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے آئی او ایم نے کہا ہے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے سینکڑوں باشندے جنگ اور بھوک سے فرار ہو کر ہر ہفتے یونان پہنچ رہے ہیں۔ جنوری سے 23 جولائی کے عرصے میں ان میں سے 85 فی صد پناہ گزین یورپ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ایک اور خبر میں بتایا گیا ہے کہ اٹلی ان انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی میں کوسٹل گارڈز کی مدد کے لیے اپنی بحری جنگی جہاز لیبیا بھیج رہا ہے جو بحیرہ روم کے طویل اور خطرناک راستے سے ہزاروں پناہ گزینوں کو اٹلی کے ساحلوں پر پہنچا رہے ہیں۔

اٹلی کے وزیر أعظم پاؤلو جنٹیلونی نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ اس کارروائی سے تارکین وطن کے بحران پر قابو پانے میں فیصلہ کن مد د ملے گی جس نے کئی مہینوں سے یورپ کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے۔

صرف اس سال افریقہ، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی سے ایک لاکھ کے لگ بھگ تارکین وطن اٹلی پہنچ چکے ہیں۔ جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 7 فی صد اضافہ ہے۔ اس دوران دو ہزار سے زیادہ افراد خطرناک سمندری سفر میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG