رسائی کے لنکس

logo-print

ترک فوجیوں پر شامی باشندوں کا پتھراؤ، ایک شخص گاڑی کے نیچے کچلا گیا


ترک، روس مشترکہ فوجی گشت

کرد افواج کے علاوہ شام میں لڑائی کی نگرانی کرنے والے ایک گروپ نے بتایا ہے کہ جمعے کو شمال مشرقی شام میں ترک اور روسی فوج کے مشترکہ گشت کے دوران مظاہرے میں شامل ایک شامی باشندہ ترک فوجی گاڑی تلے آ کر ہلاک ہو گیا ہے۔

وہ ان مقامی باشندوں کے ایک گروپ میں شامل تھا جو قافلے پر جوتے پھینک رہا تھا اور سنگ باری کر رہا تھا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ترک فوج نے آنسو گیس کے گولے پھینکے۔

رجاوا اطلاعاتی مرکز کے مطابق، دس زخمیوں کو اسپتال داخل کر دیا گیا ہے۔ یہ امدادی گروپ کردوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں سرگرم ہے۔

نگرانی پر مامور گروپ، ’سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ سرحد کے قریب ایک گاؤں، سرمساخ میں پیش آیا جہاں ترک فوج روسیوں سے مل کر گشت کر رہی تھی۔ روس اور ترکی کے درمیان معاہدے کے تحت کرد جنگجوؤں کو دونوں ملک مل کر ترک سرحدی علاقوں سے باہر نکالیں گے۔

گشت کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ شامی کرد جنگجوؤں کو، جو امریکہ کے سابق اتحادی رہے ہیں، سرحدی زون سے امریکی فوجیوں کے جانے کے بعد باہر نکال دیا جائے۔

روس اور امریکہ کے ساتھ ہونے والے دو علیحدہ معاہدوں کے نتیجے میں گزشتہ ماہ ترک فوج کی جانب سے شام پر حملہ روک دیا گیا۔ اس فوجی کارروائی کا مقصد ان گروہوں کو ہدف بنانا تھا جو ترکی کے خیال میں سیکیورٹی کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔ ترکی کا خیال ہے کہ ان جنگجو کردوں کے اس کرد بغاوت سے رابطے ہیں جو ترکی کے اندر جاری ہے۔

انٹرنیٹ پر جمعے کے روز گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند لوگ ترک اور روسی بکتربند گاڑیوں کے پیچھے دوڑ رہے ہیں اور ان پر پتھر مار رہے ہیں۔

ایک اور ویڈیو میں مرد، خواتین اور بچے اس بکتربند گاڑی پر پتھر مار رہے ہیں جو ایک قبرستان کے قریب سے گزر رہی ہے۔

فوری طور پر روسی یا ترک فوج کی جانب سے اس واقعے کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG