رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی کے وزیراعظم کا ’مستعفی ہونے کا فیصلہ‘: رپورٹ


2014ء میں رجب طیب اردوان کی جگہ ملک کی وزارت عظمیٰ کا منصب اور "جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ" پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے بعد سے ایسی خبریں آتی رہی ہیں کہ اغلو اور اردوان کے درمیان مختلف امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ترکی کے ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ وزیراعظم احمد داؤد اغلو ممکنہ طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں اور جمعرات کو اس مقصد کے لیے انھوں نے اپنی جماعت کا ایک ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا ہے۔

روزنامہ حریت اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق اغلو حکمران جماعت کے رہنماؤں سے مشاورت کے بعد اپنے فیصلے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

2014ء میں رجب طیب اردوان کی جگہ ملک کی وزارت عظمیٰ کا منصب اور "جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ" پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے بعد سے ایسی خبریں آتی رہی ہیں کہ اغلو اور اردوان کے درمیان مختلف امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اغلو کے ممکنہ استعفے کا معاملہ ایک ایسے وقت سامنے آ رہا ہے جب ترکی میں سلامتی کے خدشات خاصے گہرے ہو چکے ہیں اور داعش اور کرد باغیوں کی طرف سے حالیہ مہینوں میں متعدد ہلاکت خیز حملوں میں درجنوں شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

اردوان نے اگست 2014ء میں منصب صدارت سنبھالا تھا اور اس سے قبل وہ تقریباً ایک دہائی تک وزیراعظم کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔ وہ اقتدار پر اپنی گرفت کو مضبوط کرنے کے مختلف اقدام کر چکے ہیں جس پر انھیں اپنے حریفوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا رہا ہے۔

ایسی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ اغلو کے مستعفی ہونے سے وزارت عظمیٰ کے لیے ممکنہ امیدواروں میں اردوان کے متعمد خاص اور ٹرانسپورٹ کے وزیر بن علی یلدرم اور وزیر توانائی برات البائرک شامل ہو سکتے ہیں۔ برات صدر کے داماد بھی ہیں۔

ذرائع ابلاغ میں اس عہدے کے لیے نائب وزیراعظم کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG