رسائی کے لنکس

بقول اردوان، ''فوجی حملے کا مقصد ادلب کے علاقے میں جہادی کنٹرول کا خاتمہ کرنا ہے''۔ ادلب کا زیادہ تر علاقہ جہادی 'تحریر الشام اتحاد' کے قبضے میں ہے، جس میں القاعدہ کے سابق عناصر شامل ہیں، جس نے گذشتہ سال اپنا نام بدل کر 'النصرہ محاذ' رکھا ہے

ترک صدر رجب طیب اردوان نے شام کے صوبہ ادلب میں ترک فوجی کارروائی کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔

ہفتے کے روز اپنی جماعت کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے، اردوان نے کہا کہ ''اس لمحے ادلب میں باقاعدہ کارروائی شروع ہو چکی ہے، جو جاری رہے گی''۔

فوجی حملے کا مقصد ادلب کے علاقے میں جہادی کنٹرول کا خاتمہ کرنا ہے۔ ادلب کا زیادہ تر علاقہ جہادی 'تحریر الشام اتحاد' کے قبضے میں ہے، جس میں القاعدہ کے سابق عناصر شامل ہیں، جس نے گذشتہ سال اپنا نام بدل کر 'النصرہ محاذ' رکھا ہے۔

اردوان نے کہا ہے کہ ''ہمیں اپنے بھائیوں کی مدد کرنی ہے جو حلب سے بھاگ کر ادلب پہنچے ہیں۔ ضروری اقدامات کیے گئے ہیں، اور یہ جاری رہیں گے۔ فری سیرئن آرمی اس کارروائی پر عمل درآمد کرا رہی ہے، جب کہ ہمارے فوجی وہاں نہیں ہیں''۔

مقامی اطلاعات کے مطابق، 'فری سیرئن آرمی' کی فوجیں ادلب میں داخل ہونا شروع ہوگئی ہیں، اور پہلے ہی اُن کی جہادیوں سے جھڑپیں جاری ہیں۔

کئی ہفتوں سے ترک فوج ادلب کی سرحد پر اپنی فوجیں اکٹھی کر رہی تھی۔

مقامی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ فوجی کارروائی سے قبل، ترکی کی جانب سے تعمیر کی گئی سرحدی دیوار کے حصے ہٹا دیے گئے ہیں، جس کا ہفتے کی رات سے باقاعدہ آغاز ہوجائے گا۔

اردوان نے کہا ہے کہ موجودہ کارروائی کو روس کی جانب سے فضائی حمایت حاصل ہے۔

آستانہ میں ترکی، روس اور ایران نے ادلب میں پرامن علاقہ قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ تحریر الشام اس کی سخت مخالف ہے، جس نے شام کی حکومت کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کا عزم کیا ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG