رسائی کے لنکس

افغان وزارتِ تعلیم کی ویب سائٹ کے مطابق، اسکول جانے والی عمر کےاندازاً ایک کروڑ 20 لاکھ بچوں اور نوجوانوں میں سے اندازاً 42 فی صد، یا 50 لاکھ کی تعلیم تک رسائی نہیں ہے

سنہ 2017ء میں افغانستان میں نئے تعلیمی سال کے پہلے روز کی صورت حال یہ ہے کہ یومیہ 1100 بچوں کو اسکول جانے سے روک دیا جاتا ہے۔ اِس صورت حال کا انتباہ جمعرات کے روز بچوں کےحقوق کے لیے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم نے جاری کیا ہے۔

بنیادی وجوہ بیان کرتے ہوئے، بچوں کے تحفظ سے وابستہ تنظیم، ’سیو دِی چلڈرین‘ نے تشدد اور عدم استحکام، والدین کے لیے ملازمت کے مواقع کی عدم دستیابی اور ہمسایہ پاکستان سے افغانوں کی زبردستی بے دخلی کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ادارے کے مطابق، درپیش صورتِ حال کے انتہائی خراب نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

انا لوکسن، افغانستان میں ’سیو دِی چلڈرین‘ کی ملکی سربراہ ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں پتا ہے کہ جو بچے اسکول نہیں جاتے اُنھیں کم عمری کی شادی، کام کرنے والے ٹولوں میں شمولیت کا احتمال ہوتا ہے، جن کا استحصال کیا جانا آسان ہوتا ہے، یا اُنھیں مسلح گروہوں میں بھرتی کیا جا سکتا ہے یا پھر انسانی اسمگلنگ کا شکار ہوتے ہیں۔ اور وہ جتنا زیادہ عرصہ تعلیمی نظام سے باہر رہتے ہیں، یہ امکان کم ہو جاتا ہے کہ وہ کبھی تدریس کی راہ کی جانب لوٹیں گے‘‘۔

عدم دستیاب ہوتا ہوا تدریسی عمل

افغان وزارتِ تعلیم کی ویب سائٹ کے مطابق، اسکول جانے والی عمر کےاندازاً ایک کروڑ 20 لاکھ بچوں اور نوجوانوں میں سے اندازاً 42 فی صد، یا 50 لاکھ کی تعلیم تک رسائی نہیں۔

وزارت کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 5000 سے زائد اسکولوں کو عمارتیں، احاطے کی دیواریں، حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق پانی کا پانی یا صفائی ستھرائی کی سہولتیں میسر نہیں، جب کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران جاری لڑائی کے نتیجے میں سینکڑوں اسکول تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق، گذشتہ سال، تنازعے کے نتیجے میں، پانچ لاکھ سے زائد افغان، جِن میں سے زیادہ تر تعداد بچوں کی ہے، اندرونی طور پر بے دخل ہوئے۔ اس کے علاوہ، 10 لاکھ سے زیادہ افغان، جن کا اندراج ہو چکا ہے یا بغیر اندراج کے ہیں، وہ پچھلے سال پاکستان اور ایران سے واپس آئے، جس کے نتیجے میں تعلیم اور صحت کی وزارتوں پر اضافی بوجھ پڑا۔

سڑکوں پر کام کرنے والے متعدد بچے

’سیو دِی چلڈرین‘ کے مطابق، معاشی مشکلات کے نتیجے میں واپس آنے والے بچوں کی نصف تعداد سڑکوں پر کام کرنے پر مجبور ہے، جاوید جیسا بچہ، پیٹ بھرنے کے لیے کچرے میں سے غذائی اشیا تلاش کرتا ہے۔

جاوید نے ’سیو دِی چلڈرین‘ کو بتایا کہ ’’جب میں کچرے کو الٹتا پلٹتا ہوں، مجھے افسوس ہوتا ہے اور سوچتا ہوں کہ میں نے اسکول کیوں چھوڑا اور کس کام میں لگا ہوا ہوں۔ یہ میری تعلیم کا وقت تھا ناکہ کام کا‘‘۔

گذشتہ سال کے مقابلے میں، توقع ہے کہ اس سال افغانستان لوٹنے والوں کی تعداد زیادہ ہوگی۔

افغان وزارتِ تعلیم کے مطابق، طالبان کی حکومت کی شکست کے بعد سے اب تک ملک نے تعلیم کے شعبے میں پیش رفت حاصل کی ہے۔ اُس وقت 10 لاکھ سے بھی کم بچے اسکول جایا کرتے تھے، جن میں تقریباً سارے ہی لڑکے ہوا کرتے تھے۔

وزارت کے مطابق، آج یہ تعداد بڑھ کر لاکھوں ہو چکی ہے، جب کہ ان اعداد میں بچیوں کی تعداد تقریباً 40 فی صد ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG