رسائی کے لنکس

ہانگ کانگ کے مظاہرین کے خلاف متحرک دو لاکھ ٹوئٹر اکاؤنٹس بند

فائل فوٹو
فائل فوٹو

سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ٹوئٹر' نے تصدیق کی ہے کہ ہانگ کانگ میں مظاہروں کے خلاف چین کے زیر اثر چلنے والے دو لاکھ سے زائد مشتبہ اکاؤنٹس کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر معطل کر دیا گیا ہے۔

ٹوئٹر حکام کا کہنا ہے کہ چین کی حکومت ان اکاؤنٹس کے ذریعے ہانگ کانگ میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف مہم چلا رہی تھی۔

خبر رساں ادارے 'اے پی' نے ٹوئٹر حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ اقدامات بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔

ہانگ کانگ: حکومت مخالف احتجاج جاری

احتجاجی مظاہرین پیر کے روز ہانگ کانگ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمع ہو گئے جس کے باعث متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
1/8 احتجاجی مظاہرین پیر کے روز ہانگ کانگ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمع ہو گئے جس کے باعث متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
مظاہرین پولیس کے سامنے حفاظتی حصار بنا کر کھڑے ہیں جب کہ اس دوران جھڑپیں بھی ہوئیں۔
2/8 مظاہرین پولیس کے سامنے حفاظتی حصار بنا کر کھڑے ہیں جب کہ اس دوران جھڑپیں بھی ہوئیں۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے مرچوں والا سپرے بھی کیا۔
3/8 پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے مرچوں والا سپرے بھی کیا۔
احتجاج کے دوران خواتین مظاہرین کی جانب سے ایئر پورٹ کے احاطے میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔
4/8 احتجاج کے دوران خواتین مظاہرین کی جانب سے ایئر پورٹ کے احاطے میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔
پروازوں میں تاخیر اور ایئر پورٹ کی بندش سے پریشان مسافر عملے سے معلومات حاصل کرتے رہے۔
5/8 پروازوں میں تاخیر اور ایئر پورٹ کی بندش سے پریشان مسافر عملے سے معلومات حاصل کرتے رہے۔
طبی عملہ احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے ایک شخص کو نکالنے کی کوشش کر رہا ہے جس کے متعلق مظاہرین نے شہبہ ظاہر کیا کہ وہ پولیس اہل کار ہے۔
6/8 طبی عملہ احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے ایک شخص کو نکالنے کی کوشش کر رہا ہے جس کے متعلق مظاہرین نے شہبہ ظاہر کیا کہ وہ پولیس اہل کار ہے۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ انہیں ہانگ کانگ کے نئے لیڈر کے انتخاب کے سلسلے میں منصفانہ اور آزادانہ طور پر ووٹ دینے کا اختیار دیا جائے۔
7/8 مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ انہیں ہانگ کانگ کے نئے لیڈر کے انتخاب کے سلسلے میں منصفانہ اور آزادانہ طور پر ووٹ دینے کا اختیار دیا جائے۔
مسافر ایک روز بعد ایئر پورٹ کھلنے پر قطار میں کھڑے ہیں۔
8/8 مسافر ایک روز بعد ایئر پورٹ کھلنے پر قطار میں کھڑے ہیں۔
Previous slide
Next slide

حکام کا کہنا ہے کہ چین کی سرکاری کمپنیوں کے اشتہارات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل روس کی دو کمپنیوں پر بھی اسی نوعیت کی پابندی عائد کی گئی تھی۔

حکام نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید بتایا کہ چین کی طرف سے کی جانے والی یہ کارروائی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کو رپورٹ کر دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ایف بی آئی 2016 میں امریکہ کے صدارتی انتخابات میں روس کے سوشل میڈیا کے ذریعے اثر انداز ہونے کی تحقیقات کرتی رہی ہے۔

ٹوئٹر حکام کا مزید کہنا ہے کہ چینی حکومت کی حمایت اور مدد سے چلنے والی کمپنیوں کی طرف سے دیے جانے والے اشتہارات پر بھی پابندی عائد کی جائے گی۔

ٹوئٹر کی اس کارروائی کے بعد ایک اور مشہور سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'فیس بک' کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس نے بھی سات پیجز، تین گروپس اور پانچ اکاؤنٹس بند کیے ہیں۔

فیس بک کے مطابق ان اکاؤنٹس، گروپس اور پیجز کے ذریعے مظاہرین کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا تھا۔

تصاویر: ملزمان کی چین حوالگی قانون کے خلاف ہانگ کانگ میں احتجاج

مجوزہ قانون کے خلاف ہانگ کانگ کے شہری سراپا احتجاج ہیں۔
1/7 مجوزہ قانون کے خلاف ہانگ کانگ کے شہری سراپا احتجاج ہیں۔
پیر کو مظاہرین اور پولیس میں تصادم بھی ہوا۔
2/7 پیر کو مظاہرین اور پولیس میں تصادم بھی ہوا۔
مبصرین کے مطابق بڑے پیمانے پر مجوزہ قانون کے خلاف احتجاج نے ہانگ کانگ کو سیاسی بحران کی جانب دھکیل دیا ہے۔
3/7 مبصرین کے مطابق بڑے پیمانے پر مجوزہ قانون کے خلاف احتجاج نے ہانگ کانگ کو سیاسی بحران کی جانب دھکیل دیا ہے۔
مجوزہ بل کی عمومی طور پر حکومت کے حمایتی کاروباری افراد، طلبا، وکلا، مذہبی گروپ اور جمہوریت پسند افراد بھی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں۔
4/7 مجوزہ بل کی عمومی طور پر حکومت کے حمایتی کاروباری افراد، طلبا، وکلا، مذہبی گروپ اور جمہوریت پسند افراد بھی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں۔
کیری لام کا کہنا ہے کہ وہ مظاہرین کے خدشات دور کرنے کے لیے بل میں مزید ترامیم تجویز کر رہی ہیں جس میں انسانی حقوق کے تحفظ کی شق بھی شامل ہے۔
5/7 کیری لام کا کہنا ہے کہ وہ مظاہرین کے خدشات دور کرنے کے لیے بل میں مزید ترامیم تجویز کر رہی ہیں جس میں انسانی حقوق کے تحفظ کی شق بھی شامل ہے۔
مظاہرین مجوزہ بل کی محرک اور ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لام کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
6/7 مظاہرین مجوزہ بل کی محرک اور ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لام کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
مجوزہ قانون کو پارلیمینٹ میں پیش کیے جانے کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
7/7 مجوزہ قانون کو پارلیمینٹ میں پیش کیے جانے کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
Previous slide
Next slide

خیال رہے کہ چین میں ٹوئٹر پر پابندی ہے جبکہ نیم خود مختار علاقے ہانگ کانگ میں ٹوئٹر کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ہانگ کانگ میں گزشتہ دو ماہ سے حکومت مخالف احتجاج جاری ہے۔

احتجاج کے منتظمین کے مطابق اتوار کو بیجنگ کی وارننگ کے باوجود لگ بھگ 17 لاکھ افراد نے ہانگ کانگ کی سڑکوں پر پرامن مارچ کیا۔

گزشتہ ہفتے مظاہرین ہانگ کانگ کے مرکزی ہوائی اڈے تک بھی پہنچ گئے تھے، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی تھیں جب کہ ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن بھی معطل ہو گیا تھا۔

یاد رہے کہ ہانگ کانگ کو 1997 میں چین اور برطانیہ کے درمیان معاہدے کے بعد خود مختار حیثیت دی گئی تھی۔ ہانگ کانگ کے بعض طبقات وقتاً فوقتاً ان خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ صدر شی جن پنگ کی حکومت ان کی خودمختاری پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر چین نے طاقت کے ذریعے ہانگ کانگ میں احتجاجی تحریک روکنے کی کوشش کی تو یہ تباہ کن اقدام ہو گا۔ نہ صرف اس سے چین کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا بلکہ اس کا اثر چین کی معیشت پر بھی پڑے گا۔

This item is part of
XS
SM
MD
LG