رسائی کے لنکس

logo-print

بیلجئم: مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی، دو ہلاک


حکام نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پولیس نے ورویئرز میں دہشت گردوں کے ایک مبینہ گروہ کی گرفتاری کے لیے ان کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا تھا۔

بیلجئم میں پولیس کی مبینہ دہشت گردوں کے خلاف ایک کارروائی میں دو مشتبہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

بیلجئم کے فیڈرل پراسکیوٹرکے دفتر کے مطابق کارروائی مشرقی قصبے ورویئرز کے وسطی علاقے میں جمعرات کو کی گئی۔

محکمۂ استغاثہ کے افسران نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پولیس نے ورویئرز میں دہشت گردوں کے ایک مبینہ گروہ کی گرفتاری کے لیے ان کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا تھا۔

ان کے مطابق مبینہ دہشت گرد گروہ بیلجئم میں بڑے حملوں کی تیاری کر رہا تھا جس کے بعض ارکان شام میں جہادی گروپوں کے ساتھ بھی منسلک رہے ہیں۔

استغاثہ کے مطابق پولیس چھاپے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دو مشتبہ دہشت گرد مارے گئے ہیں جب کہ ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔

بیلجئم کے سرکاری ٹی وی نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کارروائی کے دوران ایک شخص شدید زخمی ہوا ہے۔ تاہم پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ چھاپے میں ان کے کسی اہلکار کو کوئی گزند نہیں پہنچی۔

چھاپے کے دوران موقع پر موجود ایک شہری کی جانب سے بنائی ہوئی ویڈیو میں بعض عمارتوں سے دھواں اور شعلے اٹھتے دیکھے جاسکتے ہیں جب کہ پس منظر دھماکوں اور گولیوں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔

محکمۂ استغاثہ کے مطابق اس چھاپہ مار کارروائی کے بعد بیلجئم میں دہشت گرد حملوں کا انتباہ انتہائی سے ایک درجہ کم تک بڑھادیا گیا ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو بیلجئن حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے پیرس کی ایک یہودی مارکیٹ میں چار افراد کو یرغمال بنا کر قتل کرنے والے شدت پسند عمیدی کولی بالے کو اسلحہ فراہم کرنے کے الزام میں ایک شخص کو حراست میں لیا ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق گزشتہ ہفتے پیرس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد بیلجئم میں سکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے اور پولیس مبینہ مسلمان شدت پسندوں کی تلاش میں دارالحکومت برسلز سمیت کئی شہروں میں چھاپے مار رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اس شخص کی تلاش میں ہے جسے کئی عینی شاہدین نے برسلز کے میٹرو اسٹیشن پر اسلحہ لہراتے ہوئے عربی میں نعرے بلند کرتے دیکھا تھا۔

یورپی حکام کے مطابق بیلجئم یورپ کا سرِ فہرست ملک ہے جس کے آبادی کے تناسب کے اعتبار سے سب سے زیادہ شہریوں نے گزشتہ چار برسوں کے دوران شام میں جہادی کارروائیوں میں حصہ لیا ہے۔

یورپی حکام کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک خصوصاً عراق اور شام میں شدت پسند سرگرمیوں میں شرکت کے بعد وطن واپس لوٹنے والے یورپی باشندے اپنے اپنے ملکوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG