رسائی کے لنکس

logo-print

روس: نیمتسوو کے قتل کے شبے میں دو افراد گرفتار


تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ آیا حراست میں لیے گئے ان افراد پر نیمتسوو پر فائرنگ کرنے کا الزام ہے یا پھر اس میں کسی اور طرح ملوث ہونے کا۔

روس میں حکام نے بتایا ہے کہ حزب مخالف کے رہنما بورس نیمتسوو کے قتل کے شبے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

وفاقی سکیورٹی کے عہدیدار الیگزینڈر بورتھنکوو نے ہفتہ کو سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ان دونوں مشبہ افراد کی شناخت انزور گوباشیو اور زایور دادیوو کے نام سے ہوئی ہے اور ان کا تعلق شمالی قفقاز خطے سے ہے۔

انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

تاحال یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ آیا حراست میں لیے گئے ان افراد پر نیمتسوو پر فائرنگ کرنے کا الزام ہے یا پھر اس میں کسی اور طرح ملوث ہونے کا۔

بورتھنکوو کا کہنا تھا کہ صدر ولادیمر پوٹن کو ان گرفتاریوں کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔

27 فروری کو ایک مسلح شخص نے نیمتسوو کو اس وقت فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا جب وہ اپنی ایک دوست کے ہمراہ ماسکو میں کھانا کھانے کے بعد اپنے اپارٹمنٹ کی طرف پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے۔

یہ واقعہ کریملن سے کچھ ہی فاصلے پر پیش آیا تھا اور اس میں نیمتسوو کی ساتھی خاتون محفوظ رہی تھیں۔

نیمتسوو نے اختتام ہفتہ پر پوٹن مخالف ریلی کی قیادت کرنا تھی لیکن ان کے قتل کے بعد یہ ریلی ان کی یاد میں نکالے جانے والے مارچ میں تبدیل ہو گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

اپنے قتل سے چند ہفتے قبل نیمتسوو نے روس کی ایک نیوز ویب سائٹ کو بتایا تھا کہ مسٹر پوٹن انھیں مردہ دیکھنا چاہتے اور اپنے اس بیان کو انھوں نے آخری وقت تک واپس بھی نہیں لیا تھا۔

"مجھے ڈر ہے کہ پوٹن مجھے مار دیں گے۔ میرا ماننا ہے کہ انھوں نے ہی یوکرین میں جنگ کو ہوا دی۔ میں انھیں اس سے زیادہ ناپسند نہیں کرسکتا۔"

صدر پوٹن نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ نیمتسوو کے قاتلوں کو ہر حالت میں گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG