رسائی کے لنکس

logo-print

لاہور سیالکوٹ موٹروے پر خاتون سے مبینہ زیادتی، متعدد مشتبہ افراد زیرِ حراست


فائل فوٹو

پنجاب میں پولیس نے لاہور سیالکوٹ موٹروے پر بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والی خاتون سے مبینہ زیادتی اور لوٹ مار کے واقعے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

پولیس نے واقعے کی تفتیش کا دائرہ بڑھاتے ہوئے دیگر تحقیقاتی اداروں کی مدد بھی حاصل کر لی ہے جب کہ قریبی آبادی سے 12 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق گوجرانولہ کی رہائشی خاتون سے مبینہ زیادتی کا واقعہ 8 اور 9 ستمبر کی درمیانی شب لاہور کے گجرپورہ تھانے کی حدود میں پیش آیا۔ خاتون رات تقریباََ ڈیڑھ بجے بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ جانے کے لیے لاہور۔سیالکوٹ موٹروے پر سفر کر رہی تھیں جسے حال ہی میں ٹریفک کے لیے کھولا گیا ہے۔

مبینہ زیادتی کے واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے خاتون کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہو گیا تھا۔ انہوں نے گاڑی روکی اور اپنے ایک عزیز کو مدد کے لیے فون کیا۔ جس پر انہوں نے موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن پر فون کرنے کا مشورہ دیا۔

ایف آئی آر کے مطابق موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن سے جواب ملا کہ متعلقہ علاقہ اُن کی حدود میں نہیں آتا۔ اسی دوران دو نامعلوم مسلح افراد آئے، جو خاتون اور گاڑی میں موجود ان کے دو بچوں کو قریبی کھیت میں لے گئے۔ جہاں خاتون کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ملزمان ایک لاکھ روپے کے زیورات اور نقدی بھی لوٹ لی۔

ایف آئی آر کے مطابق واقعہ رات تقریباً تین بجے پیش آیا اور اِس کا مقدمہ صبح 10 بجے درج کیا گیا۔

واقعے پر وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا ہے کہ تفتیش میں اربن اور رورل پولیسنگ کے طریقے کے مطابق کھوجیوں، سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈی این اے کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

وائس آف امریکہ نے اِس سلسلے میں ایک روز قبل تعینات ہونے والے آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی اور نئے تعینات ہونے والے سی سی پی او لاہور عمر شیخ سے رابطہ کیا تاہم دونوں کے آپریٹرز نے جواب دیا کہ افسران میٹنگز میں مصروف ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی نے کہا ہے کہ موٹر وے پر پیش آنے والے واقعے میں کافی پیش رفت ہوئی ہے اور وہ اُس گاؤں تک پہنچ گئے ہیں جہاں سے ملزمان کا تعلق ہے۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ اِس واقعے کی تحقیقات پر 20 ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ تمام تحقیقات کی نگرانی ڈی آئی جی کر رہے ہیں۔

آئی جی پنجاب نے بتایا کہ پورے علاقے کی ووٹرز لسٹ اور نادرا کا ریکارڈ لے لیا گیا ہے۔ ملزموں کی عمروں کی روشنی میں لوگوں کو شناخت کیا جا رہا ہے۔ 17 ایسے افراد جن کا پہلے سے مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے، اُن کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے اور جیوفینسنگ بھی کرا لی گئی ہے۔

عام طور پر موٹروے کے اردگرد حفاظتی باڑ (لوہے کی جالی) لگائی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملزمان موٹر وے کی جالی کاٹ کر خاتون اور بچوں کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے تھے۔

موٹروے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ موٹر وے پر نہیں آیا بلکہ لاہور رنگ روڈ پر پیش آیا ہے۔

پاکستان میں ہر 2 گھنٹے میں ایک عورت جنسی زیادتی کا نشانہ بنتی ہے
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:53 0:00

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے موٹر وے پولیس کے ایک عہدے دار نے نام نہ بتانے کی درخواست کرتے ہوئے اصرار کیا کہ مذکورہ علاقہ موٹر وے پولیس کی حدود میں نہیں آتا۔

موٹروے حکام کے مطابق اِس واقعے کے بارے میں پولیس کی ہیلپ لائن ون فائیو پر بھی کال کی گئی تھی۔ موٹروے پولیس اُس علاقے سے کم از کم 15 کلومیٹر دور ہے۔ موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن 130 پر کال آئی تھی جس پر جواب دیا گیا کہ یہ علاقہ موٹروے پولیس کے پاس نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ نے متاثرہ خاتون کے اہلِ خانہ سے رابطہ کیا تو اُنہوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن اور 'عورت فاؤنڈیشن' کی ڈائریکٹر ممتاذ مغل کہتی ہیں کہ موٹروے کو ایک محفوظ سڑک خیال کیا جاتا ہے اور کبھی گمان میں بھی نہیں آتا کہ موٹروے بھی غیر محفوظ ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے عورت فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر پروگرامز نے کہا کہ سچی بات یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی جگہ خواتین کے لیے محفوظ نہیں لگتی۔

ممتاز مغل کہتی ہیں کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور اجتماعی زیادتی ہوتی ہی کیوں ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ خواتین کے ساتھ زیادتی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ روزانہ ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ حکومت، وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ ذرائع ابلاغ کے کہنے پر ایکشن تو لے لیتے ہیں۔ لیکن اُس ایکشن کا کچھ عرصے بعد کچھ پتہ نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کا خاتون کے بچوں پر بہت گہرا اثر پڑے گا اور وہ گہرے صدمے میں ہوں گے۔ ہمارے ہاں قانون سازی تو ہو جاتی ہے لیکن قانون بننے کے بعد سزائیں نہیں ہوتیں۔

ان کے بقول جب تک ریاست خواتین کو تحفظ نہیں دیتی اور معاشرے کا رویہ بدلنے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں بنایا جاتا، تب تک ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ جب کہ اس واقعے پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

خاتون سے مبینہ زیادتی کے واقعے کو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے زیادتی کے مرتکب افراد کو پکڑ کر سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG