رسائی کے لنکس

logo-print

اتحادی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد یمن میں اماراتی طیاروں کی بمباری


سعودی عرب کی طرف سے اپنے فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق سے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ یمن میں اس کی زمینی فوج بھی موجود ہے۔

یمن میں باغیوں کے ایک میزائل حملے میں سعودی قیادت کے زیر اتحاد فورسز کے کم ازکم 55 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد متحدہ عرب امارات نے شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف بھرپور فضائی کارروائی کی ہے۔

دارالحکومت صنعاء میں ان حملوں سے کم ازکم بیس شہریوں کے مارے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

جمعہ کو دارالحکومت سے 120 کلومیٹر مشرق میں واقع علاقے ماریب میں اسلحے کے ذخیرے پر باغیوں نے میزائل داغا جس سے اتحادی فوج کے 55 فوجی ہلاک ہوئے۔ ان میں دس کا تعلق سعودی عرب اور پانچ کا بحرین سے تھا جب کہ باقیوں کا تعلق متحدہ عرب امارات سے تھا۔

متحدہ عرب امارات کا ایک ہی دن میں اب تک ہونے والا یہ سب سے بڑا جانی نقصان تھا جب کہ یمن میں سعودی فوجیوں کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

سعودی عرب کی طرف سے اپنے فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق سے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ یمن میں اس کی زمینی فوج بھی موجود ہے۔

سعودی عرب نے اپنے خلیجی اور عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر رواں سال مارچ کے اواخر میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے گزشتہ سال ستمبر میں صنعاء پر قبضہ کرنے کے بعد ملک کے دیگر حصوں میں بھی کارروائیاں شروع کی تھیں۔

عرب دنیا کے اس پسماندہ ترین ملک میں خانہ جنگی کی سی صورتحال ہے اور یہاں ہونے والی لڑائی کے باعث اقوام متحدہ کے مطابق انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق مارچ سے ہونے والی فضائی کارروائیوں میں ساڑھے چار ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں لگ بھگ دو ہزار عام شہری بھی شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG