رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی اور اماراتی حکام کے دورے، کوالالمپور نہ جانے کی تلافی؟


ابوظہبی کے ولی عہد ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تھے۔

ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ ایک روزہ دورے پر جمعرات کو اسلام آباد پہنچے، جہاں انہوں نے پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

قبلِ ازیں جمعرات کو اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پر وزیرِ اعظم عمران خان نے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد کا استقبال کیا۔

اگرچہ پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ابو ظہبی کے ولی عہد کا دورہ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں کا حصہ ہے، تاہم بعض تجزیہ کار ایک ہفتے کے اندر مشرق وسطیٰ کے دو اتحادی ملکوں کے حکام کی پاکستان آمد کو اہم قرار دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ چند روز قبل سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

پاکستان نے گزشتہ ماہ ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہیں کی تھی۔ ناقدین پاکستان کی عدم شرکت کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دباؤ کا شاخسانہ قرار دے رہے تھے۔

دونوں ممالک نے اس کانفرنس کے انعقاد پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

بعض تجزیہ کار اس پس منظر میں ابو ظہبی کے ولی عہد کے دورۂ پاکستان کو پاکستان کے ساتھ سفارتی یکجہتی کا اظہار قرار دے رہے ہیں۔

کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پر وزیرِ اعظم عمران خان کو اندرونِ ملک تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم، پاکستانی عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے اس کانفرنس میں شرکت بظاہر بعض ملکوں کے تحفظات کی وجہ سے نہیں کی تھی۔

البتہ، پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد کے دورۂ پاکستان کا کوالالمپور سمٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے جمعرات کو معمول کی بریفنگ کے دوران کہا کہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان برادر اسلامی ممالک ہیں، جن کے باہمی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں جو نہایت گہرے اور وسیع نوعیت کے ہیں۔

پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان سمجھتے ہیں کہ یہ دورے کوالالمپور نہ جانے سے پیدا ہونے والی سفارتی بدمزگی کم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

شمشاد احمد خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے ملائیشیا کے وزیرِ اعظم مہاتیر محمد کو فون کر کے اس معاملے پر اعتماد میں لے لیا تھا۔ علاوہ ازیں، جنیوا میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات میں اُنہیں بھی کوالالمپور نہ جانے سے متعلق آگاہ کر دیا تھا۔

شمشاد احمد خان کا کہنا تھا کہ "پاکستان کوالالمپور سمٹ میں شرکت کرنا چاہتا تھا، کیوں کہ اس میں جموں و کشمیر کا معاملہ ایجنڈے میں شامل تھا۔ لیکن، پاکستان کی عدم شرکت سے کشمیر کے معاملے پر مؤثر بات نہیں ہو سکی۔"

اُن کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان کو اب یہ یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس کا مرکزی ایجنڈا کشمیر ہو گا۔

سعودی وزیر خارجہ نے بھی چند روز قبل پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ (فائل فوٹو)
سعودی وزیر خارجہ نے بھی چند روز قبل پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ (فائل فوٹو)

خیال رہے کہ سعودی وزیر خارجہ کے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران اسلام آباد میں او آئی سی کا اجلاس بلانے پر بھی اتفاق ہوا تھا۔ اس اجلاس کا بنیادی ایجنڈا کشمیر ہو گا۔

یادر رہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والی کوالالمپور کانفرنس میں قطر اور ایران بھی شامل تھے، جن کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات خراب ہیں۔ اس کانفرنس میں ترکی بھی شامل تھا جس کے بارے میں سعودی عرب کا خیال ہے کہ وہ اسلامی دنیا کے اندر اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار اور صحافی زاہد حسین کا کہنا ہے کہ کوالالمپور کانفرنس سے متعلق سعودی عرب کو تحفظات تھے کہ یہ اسلامی تعاون تنظیم کے متوازی ایک بلاک بنانے کی کوشش ہے۔

اُن کے بقول، "متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب اب پاکستان کو یہ یقین دلا رہے ہیں کہ وہ پاکستان کی حمایت جاری رکھیں گے۔"

زاہد حسین کا مزید کہنا تھا کہ کوالالمپور نہ جانا پاکستان کے لیے ایک عارضی دھچکہ تھا۔ لیکن ترکی اور ملائیشیا پاکستان کی مجبوریوں کو سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول، پاکستان کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ اور دونوں ممالک نے پاکستان کے معاشی مشکلات میں اس کا ساتھ دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG