رسائی کے لنکس

برطانیہ  میں گرمی کا 1884 کا ریکارڈ ٹوٹ گیا


لندن میں ایک خاتون ٹاور برج کے سبزہ زار میں گھاس پر سستا رہی ہے۔ برطانیہ ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ 25 جون 2023
لندن میں ایک خاتون ٹاور برج کے سبزہ زار میں گھاس پر سستا رہی ہے۔ برطانیہ ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ 25 جون 2023

آب و ہوا کی تبدیلی کے نتیجے میں برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں اس سال گرمیوں کی شدت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور موسم کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے نے پیر کے روز بتایا کہ برطانیہ میں 1884 میں قائم ہونے والا بلند ترین درجہ حرارت کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔

موسمیات کے ادارے کا یہ بھی کہنا تھا کہ گرمی میں اضافے کی زیادہ تر وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں جو عالمی حدت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔

اس سال جو ن میں برطانیہ کا اوسط درجہ حرارت 15 اعشاریہ 8 ڈگری سینٹی گریڈ یعنی 60 اعشاریہ 4 ڈگری فارن ہائیٹ رہا جو اس سے پہلے 1940 اور 1976 کے ریکارڈ 14 عشاریہ 9 ڈگری سینٹی گریڈ سے اعشاریہ 9 ڈگری سینٹی گریڈ زیاد ہ ہے۔

موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلی کے باعث 1940 کے بعد سے گرمی کے ریکارڈ ٹوٹنے کے امکانات کم ازکم دو گنا بڑھ گئے ہیں۔

موسمیات کے دفتر کے ایک ماہر پال ڈیوس کہتے ہیں کہ قدرتی تغیر و تبدل کے ساتھ ساتھ زمین کے ماحول میں انسانی سرگرمیوں کے باعث رونما ہونے والی آب و ہوا کی تبدیلی بھی اونچے درجہ حرارت کے ریکارڈ توڑنے کا سبب بن رہی ہے۔

گرمی سے ستایا ہوا ایک سائیکل رکشا ڈرائیور اپنا پسینہ پونچھ رہا ہے۔ 12 جون 2023
گرمی سے ستایا ہوا ایک سائیکل رکشا ڈرائیور اپنا پسینہ پونچھ رہا ہے۔ 12 جون 2023

وہ مزید کہتے ہیں کہ یہ صورت حال برقرار رہنے کی صورت میں 2050 کے عشرے تک 14 اعشاریہ 9 ڈگری سینٹی گریڈ کے ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان تقریباً ہر دوسرے سال ہوا کرے گا۔

شمالی سکاٹ لینڈ کے علاقے آرکینی آئی لینڈز سے جنوب مغربی انگلینڈ کے کورنوال تک، ملک کے وسیع علاقے میں اس سال جون میں بلند درجہ حرارت کے علاقائی ریکارڈ قائم ہوئے ہیں اور بہت سے حصوں میں یہ درجہ حرارت معمول کے اوسط سے ڈھائی درجے سینٹی گریڈ تک زیادہ تھا۔

برطانیہ میں جون کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32 اعشاریہ 2 ڈگری سینٹی گریڈ، یعنی 90 ڈگری فارن ہائیٹ تک ریکارڈ کیا گیا جو کہ معمول کے اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔

ماہی گیری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بلند درجہ حرارت اور گرم موسم کے نتیجے میں نہروں اور دریاؤں میں ہزاروں مچھلیاں ہلاک ہو گئیں۔

ماحولیات کے ماہرین نے بتایا ہے کہ گرم موسم فضائی آلودگی اور بادو باراں کے طوفانوں کا بھی سبب بنا۔

ماحولیات کے ادارے میں ماہی گیری شعبے کے مینیجر گریم اسٹوری کے مطابق ان کی ٹیمیں ملک بھر سے مچھلیوں کی ہلاکتوں سے متعلق موصول ہونے والی رپورٹس پر فوری کارروائی کر رہی ہیں۔

موسمیات کے ادارے کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سال 2022 برطانیہ کی تاریخ کا گرم ترین سال تھا جس میں سال بھر کا اوسط درجہ حرارت 10 اعشاریہ 03 ڈگری سینٹی گریڈ یا 50 ڈگری فارن ہائیٹ رہا، جو 1991 سے 2020 تک کے سال بھر کے اوسط درجہ حرارت سے اعشاریہ 89 ڈگری سینٹی گریڈ یا 1 اعشاریہ 6 ڈگری فارن ہائیٹ زیادہ تھا۔ فرانس اور جرمنی سمیت دوسرے یورپی ملکوں میں بھی موسم کی یہی کیفیت ریکارڈ کی گئی۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایک صدی قبل، جب سے موسم کے ریکارڈ رکھنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے، برطانیہ میں بلند ترین درجہ حرارت کے 10 ریکارڈ سن 2003 کے بعد قائم ہوئے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گلوبل وارمنگ کس طرح برطانیہ اور یورپ کے موسموں کو متاثر کر رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG