رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ کا ہانگ کانگ کے ساتھ تحویلِ ملزمان کا معاہدہ معطل کرنے کا اعلان


فائل فوٹو

برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہانگ کانگ کے معاملے پر چین سے کشیدگی بڑھنے کے بعد ہانگ کانگ کے ساتھ تحویلِ ملزمان کا معاہدہ معطل کر رہا ہے۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ڈومینک راب نے پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہانگ کانگ کے ساتھ تحویل ملزمان کا معاہدہ فوری طور پر معطل کیا جائے گا اور ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کا دائرہ کار بھی ہانگ کانگ تک پھیلایا جائے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ڈومینک راب نے کہا کہ وہ ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کا دائرہ کار چین سے بڑھا کر ہانگ کانگ تک لے جائیں گے۔ یعنی برطانیہ سے اسلحہ اور ایمونیشن ہانگ کانگ برآمد کرنے پر پابندی ہو گی۔

برطانوی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ہر وہ چیز ہانگ کانگ برآمد کرنے پر پابندی ہو گی جس کے ذریعے ہانگ کانگ کے شہریوں کو دبانے کا احتمال ہو۔

ڈومینک راب نے مزید کہا کہ ہم ان اقدامات کو واپس لینے پر اس وقت تک نظرِ ثانی نہیں کریں گے جب تک ہانگ کانگ کے شہریوں کی تحفظ کے لیے واضح اور ٹھوس حفاظتی انتظامات نہ کیے جائیں۔

واضح رہے کہ ماضی قریب میں برطانیہ کے چین کے ساتھ بہتر تعلقات تھے۔ سن 2015 میں اس وقت کے برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے دنیا کی دوسری بڑی معیشت یعنی چین کے ساتھ تعلقات کے اس دور کو "سنہری دور" قرار دیا تھا۔

لیکن ہانگ کانگ میں چین کے کریک ڈاؤن کے بعد برطانیہ کے چین سے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے کی ایک اور وجہ چین پر کرونا وائرس سے متعلق حقائق چھپانے کا الزام بھی ہے۔

واضح رہے کہ ہانگ کانگ چین کا نیم خود مختار علاقہ ہے جو ماضی میں برطانیہ کی کالونی بھی رہا ہے۔ برطانیہ نے 1997 میں ایک معاہدے کے تحت ہانگ کانگ کا انتظام چین کے سپرد کیا تھا اور معاہدے میں یہ بات شامل تھی کہ ہانگ کانگ کی خود مختاری کا تحفظ کیا جائے گا اور آزاد عدالتی نظام قائم کیا جائے گا۔

تاہم ہانگ کانگ میں جمہوریت کے حق میں مظاہروں اور احتجاجی تحریک کے بعد چین نے وہاں ایک سخت قانون نافذ کیا ہے جس کے تحت حکومت مخالفین کو کڑی سزائیں دی جا سکیں گی۔

نیا سیکیورٹی قانون ہانگ کانگ کے شہریوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ علیحدگی سے متعلق کسی بھی قسم کی سرگرمیوں میں شرکت، علیحدگی کے نعرے لگانے یا بینرز اور جھنڈوں کو تھامنے سے گریز کریں۔ بصورتِ دیگر وہ قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے۔

ہانگ کانگ میں سیکیورٹی قانون کے نفاذ کے بعد سے امریکہ اور مختلف ممالک اپنے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب چین کا مؤقف ہے کہ مغربی طاقتیں ہانگ کانگ کے معاملات میں مداخلت بند کریں۔

برطانیہ کی جانب سے تحویل ملزمان کا معاہدہ معطل کیے جانے کے اعلان سے قبل آسٹریلیا اور کینیڈا بھی رواں ماہ ہانگ کانگ کے ساتھ تحویلِ ملزمان کے معاہدے معطل کر چکے ہیں۔ ادھر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاشی حوالے سے ہانگ کانگ کو حاصل خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی ہے۔

ڈومینک راب سے برطانوی قانون ساز یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ وہ چین کے عہدے داروں پر بھی پابندیاں عائد کریں لیکن برطانوی وزیرِ خارجہ کا خیال ہے کہ ابھی ان اقدامات کا مناسب وقت نہیں ہے۔ ڈومینک راب کہہ چکے ہیں کہ ہم پہلے تحمل کے ساتھ تمام ثبوت اکٹھے کریں گے جس میں مہینوں کا وقت بھی لگ سکتا ہے۔

لندن کی ایک قانونی فرم 'پیٹرز اینڈ پیٹرز' میں شراکت دار نک ویمس کہتے ہیں کہ ہانگ کانگ اور برطانیہ کے درمیان ملزمان کی تحویل کے معاملات بہت ہی ہم ہوئے ہیں۔ تو تحویل ملزمان کا معاہدہ معطل کرنا محض علامتی ہے لیکن بہت اہم ہے۔

دوسری جانب چین نے برطانیہ کے ان اقدامات پر سخت ردعمل دیا ہے۔ برطانیہ میں چین کے سفیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر برطانوی حکام نے چین کے عہدے داروں پر پابندیاں عائد کیں تو انہیں سخت ردعمل برداشت کرنا ہو گا۔

برطانیہ میں چین کے سفارت خانے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چین کے داخلی معاملات میں مداخلت کی جائے گی تو چین ردعمل دے گا۔

چینی سفارت خانے کے ترجمان نے مزید کہا کہ برطانیہ نے بار بار عالمی قوانین اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ اگر برطانیہ نے کسی غلط راستے کا انتخاب کیا تو اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG