رسائی کے لنکس

logo-print

روس، یوکرین جنگ بندی معاہدے کا احترام کرے: اوباما


روہڈز نے صحافیوں کو بتایا کہ اوباما آئندہ ہفتے آسٹریلیا کے شہر برسبین میں ہونے جی 20 کے اجلاس میں یورپی رہنماؤں سے ملاقات میں بھی یوکرین کے بحران پر تبادلہ خیال کریں گے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ ستمبر میں کیئف اور ماسکو نواز باغیوں کے درمیان مشرقی یوکرین میں فائربندی کے معاہدے کا احترام کرے۔

وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے نائب مشیر بین روہڈز کا کہنا تھا کہ صدر نے یہ بات بیجنگ میں ہونے والی کانفرنس کے موقع پر روسی وزیراعظم دمتری میدویدف سے غیر رسمی گفتگو میں ہوئی۔

روہڈز نے صحافیوں کو بتایا کہ اوباما آئندہ ہفتے آسٹریلیا کے شہر برسبین میں ہونے جی 20 کے اجلاس میں یورپی رہنماؤں سے ملاقات میں بھی یوکرین کے بحران پر تبادلہ خیال کریں گے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ میں یوکرین کے سفیر یوری سرگیوف کا کہنا تھا کہ یہ ان کے ملک کی "تحمل مزاجی" ہے کہ مشرقی یوکرین میں سرکاری فورسز اور روس نواز علیحدگی پسندوں کے درمیان تنازع ابھی تک ایک باقاعدہ جنگ میں تبدیل نہیں ہوا۔

یہ بات انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس میں کہی جو نیٹو اور یورپی مبصرین کی ان رپورٹس کے بعد طلب کیا گیا کہ حالیہ دنوں میں روسی ٹینک، فوجی اور اسلحہ سرحد پار یوکرینی علاقے میں داخل ہوا۔

سرگیوف کا کہنا تھا کہ روس جو کچھ کر رہا ہے وہ کسی کو بھی اس کی وضاحت دینے سے انکاری ہے۔ انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ آیا کریملن مسلح مداخلت کا منصوبہ تو نہیں بنا رہا تھا۔

امریکی سفیر سمانتھا پاور کا کہنا تھا کہ روس اور علیحدگی پسند پانچ ستمبر کو منسک میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے بشمول یوکرین سے غیر ملکی جنگجوؤں کے انخلا کے، کسی بھی طرح سے پاسداری نہیں کر سکے ہیں۔

"جہاں روس نے وعدے کیے وہ انھیں پورا کرنے میں ناکام رہا۔ روس نے امن منصوبے پر مذاکرات کیے اور پھر حکمت عملی کے تحت ہر موقع پر اس کی نفی کی۔ یہ امن کی بات کرتا ہے لیکن جنگ کو ہوا بھی دیتا جا رہا ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی اثناء میں یوکرین نے اقوام متحدہ سے روس پر پابندیاں سخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے حقیقی کوششیں کیں۔

روس کی نائب سفیر الیگزینڈر پانکن نے کونسل کو بتایا کہ کیئف اور علیحدگی پسندوں کے درمیان فورسز اور جنجگوؤں کو محاذ سے پیچھے ہٹانے پر اتفاق کے باجود ان کے بقول یوکرین یہاں اپنی فوجیں برقرار رکھے ہوئے ہے۔

انھوں نے یورپی مبصرین پر الزام عائد کیا کہ وہ اس امر کی نشاندہی میں ناکام رہے اور روس کی فوجی نقل و حرکت سے متعلق رپورٹ ایک پروپیگنڈا ہے۔

XS
SM
MD
LG