رسائی کے لنکس

logo-print

اسپتال پر چھاپہ، تین افراد کی ہلاکت پر عالمی ادارے کی تشویش


اقوام متحدہ کا یہ الزام اُس بیان کا حصہ ہے جس میں افغان تنازعے میں ملوث تمام فریق پر اس بات کی اہمیت واضح کی گئی ہے کہ وہ صحتِ عامہ کی تنصیبات اور وہاں کام کرنے والے افراد کو خطرے میں ڈالنے والے کسی اقدام سے احتراز کریں

اقوام متحدہ نے افغان اور امریکی قیادت والی بین الاقوامی افواج پر الزام لگایا ہے کہ وسطی افغانستان کے ایک اسپتال پر کی گئی ایک مشترکہ کارروائی کے دوران 15 برس کے لڑکے سمیت دو مریضوں کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے منگل کو کابل میں جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی 18 فروری کو صوبہٴ وردک کے دمیرداد ضلعے کے تانگی سیداں کے علاقے میں کی گئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان وزارت برائےداخلہ امور سے تعلق رکھنے والی خصوصی فوج اور بین الاقوامی افوج سرکاری ہیلتھ کلینک میں داخل ہوئے، جسے افغانستان میں سویڈن کی کمیٹی کی مالی اعانت سے چلایا جاتا ہے۔

بیان کے مطابق، تنصیب کے منتظم کو رسی سے باندھا گیا، جب کہ دیگر طبی اہل کاروں کو زبردستی ایک کمرے میں بند کرنے کے بعد، دو مریضوں اور ایک 15 برس کے لڑکے کو ایک قریبی دوکان کی طرف لے جایا گیا، جہاں اُنھیں عجلت میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔

کابل میں امریکی فوجی عہدے داروں نے بتایا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اس بیان سے آگاہ ہیں، جو گذشتہ ہفتے ہونے والے واقعے کے بارے مین ہے۔

امریکی فوج کے ترجمان، کرنل مائیکل لوہورن نے ’وائس آف امریکہ‘ کو ایک مختصر بیان میں بتایا کہ ’’افغان حکومت چھان بین کر رہی ہے، تاہم کسی جاری تفتیش پر رائے زنی ہماری پالیسی نہیں‘‘۔

اقوام متحدہ کا یہ الزام اُس بیان کا حصہ ہے جس میں افغان تنازعے میں ملوث تمام فریق پر اس بات کی اہمیت واضح کی گئی ہے کہ وہ صحت عامہ کی تنصیبات اور وہاں کام کرنے والے افراد کو خطرے میں ڈالنے والے کسی اقدام سے احتراز کریں۔

XS
SM
MD
LG