رسائی کے لنکس

افغانستان میں ایک کروڑ اسی لاکھ لوگوں کو امداد کی ضرورت ہے: اقوام متحدہ


اس ماہ کے آغاز پر افغان خواتین اور بچے صوبہ ہرات میں لڑائی کے دوران ایک موٹر سائکل گاڑی پر سوار سفر کر رہے ہیں، فوٹو اے پی

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ طالبان کے دارالحکومت کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے دوران افغان لوگوں کو کئی مشکلات کا سامنا ہے اور اس وقت ملک میں ایک کروڑ اسی لاکھ لوگوں کو امداد کی ضرورت ہے۔

منگل کے روز امداد فراہم کرنے والی تنظیموں کے نمائندوں نے بتایا کہ خاص طور پر اس بحران کے دوران نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو فوری امداد پہنچانا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے طالبان سے کہا کہ وہ افغانستان کے غیر محفوظ لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنا کر اپنے حالیہ وعدوں کو پورا کریں۔

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں ہرتین میں سے ایک بچے کو ضرورت سے کم خوراک میسر آتی ہے۔

کابل سے ایک زوم میٹنگ کے دوران افغانستان میں یونیسف کے ایمرجنسی اور فیلڈ اپریشنز کے رہنما مصطفیٰ بن مسعود نے کہا کہ جن لوگوں کو فوری امداد کی ضرورت ہے ان میں بھوک کے شکار بچے اور لڑائی میں زخمی ہونے والے افراد شامل ہیں۔

دارالحکومت کابل میں امدادی کارروائیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حالات میں بہتری آرہی ہے، اگرچہ حالیہ دنوں میں عالمی ادارہ صحت کی موبائل ہیلتھ ٹیموں کو کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

عالمی ادارہ صحت کے ترجمان طارق جیسروک نے کہا کہ افغانستان کا پہلے ہی سے کمزور نظام صحت تنازع کی وجہ اور بھی بری طرح متاثر ہوا ہے اور عالمی وبا کے دنوں میں طبی سہولتوں کا فقدان ہے۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارےکے ترجمان روپرٹ کالول نے کہا ہے کہ اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں افغان عوام میں سے پانچ لاکھ پچاس ہزار ملک کے اندر ہی نے گھر ہو گئے ہیں۔ اپنے گھربار چھوڑنے والے افراد میں اسی فیصدخواتین اور بچے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض مقامات سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور خواتین کی نقل و حرکت پر پابندی لگانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

کالول نے کہا کہ خوش قسمتی سے دارالحکومت کابل اور جلال آباد اور مزار شریف جیسے دوسرے بڑے شہروں میں زیادہ لڑائی اور تباہی نہیں ہوئی اور نہ ہی وہاں خون بہا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پھر بھی لوگوں میں ماضی کے حقائق کے تناظر میں خوف کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ لوگوں کی یہ کیفیت مکمل طور پر قابل فہم ہے۔

XS
SM
MD
LG