رسائی کے لنکس

طالبان 'اسلامی اصولوں' کے مطابق انسانی زندگیوں کا تحفظ یقینی بنائیں: سعودی عرب


طالبان جنگجو کابل کا کنٹرول حاصل کرچکے ہیں۔

سعودی عرب نے افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت پورے ملک کا کنٹرول حاصل کرنے والے طالبان جنجگوؤں پر زور دیا ہے کہ وہ 'اسلامی اصولوں' کے مطابق انسانی زندگیوں اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق سعودی عرب کے سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ سعودی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب افغان عوام کی اس مرضی کے ساتھ کھڑا ہے جس کا فیصلہ وہ بغیر کسی مداخلت کے خود کریں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب امید کرتا ہے کہ اسلام کے عظیم اصولوں کی بنیاد پر طالبان تحریک اور تمام افغان فریقین استحکام، سلامتی، انسانی زندگیوں اور املاک کے تحفظ کے لیے کام کریں گے۔

سعودی عرب نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ افغانستان کی صورتِ حال جلد از جلد مستحکم ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ طالبان نے 15 اگست کو افغانستان کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔ طالبان کے کابل پہنچنے پر صدر اشرف غنی ملک چھوڑ گئے تھے۔

سعودی عرب کے علاوہ خلیجی ملک قطر نے بھی کہا ہے کہ وہ افغانستان میں انتقالِ اقتدار کی پُرامن منتقلی کا خواہاں ہے اور وہ ملک سے سفارت کاروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے غیرملکی ملازمین کے انخلا کی کوششوں میں مدد کر رہا ہے۔

قطر کے وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے اردن کے دارالحکومت عمان میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ تیزی سے ہونے والی پیش رفتوں سے متعلق عالمی تشویش پائی جاتی ہے اور قطر پرامن منتقلی بالخصوص اس سے پیدا ہونے والے خلا کے بعد، اپنی کوششیں کر رہا ہے۔

علاوہ ازیں بحرین کے سرکاری میڈیا کے مطابق بحرین کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان کی صورتِ حال پر ساتھی خلیجی ریاستوں کے ساتھ مشاورت کرے گا۔

واضح رہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں قطر کا کردار اہم رہا ہے۔ دوحہ میں سال 2013 میں امن مذاکرات کے لیے طالبان کا دفتر قائم کیا گیا تھا جب کہ فروری 2020 میں دوحہ میں ہی امریکہ اور طالبان کے درمیان امن کا معاہدہ ہوا تھا۔

اس خبر میں شامل بیشتر معلومات خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے لی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG