رسائی کے لنکس

logo-print

کیا جنرل اسمبلی میں فلسطین کی نئی حیثیت محض رسمی ہے؟


اقوام متحدہ میں فلسطین کے سفیر ریاض منصور جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کا خیر مقدم کرتے ہوئے

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منگل کے روز ایک فیصلہ دیا ہے جس کی رو سے فلسطین کو آئندہ برس 2019 میں اقوام متحدہ کے مکمل رکن کے مساوی حیثیت دے دی جائے گی۔ فلسطین اسی سال 77 ترقی پزیر ممالک کے گروپ G77 کی سربراہی بھی کرے گا۔

تاہم، شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر اور مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر ظفر بخاری نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنرل اسمبلی کی طرف سے فلسطین کو خصوصی حیثیت دینے کا فیصلہ محض علامتی ہے اور اصل فیصلہ صرف سلامتی کونسل میں ہو سکتا ہے۔ سلامتی کونسل میں امریکہ اور یورپ سے تعلق رکھنے والے مستقل اراکین فلسطین کو کوئی حیثیت دینے کیلئے رضامند نہیں ہوں گے۔

ظفر بخاری کہتے ہیں کہ کچھ عرصے سے فلسطینیوں کو اپنے علاقوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کیلئے اسرائیل کی طرف سے قائم کی گئی متعدد چیک پوسٹوں سے گزرنا پڑتا ہے جس سے اُنہیں حرکت کرنے میں بھی شدید دشواری ہو رہی ہے اور حالیہ برسوں میں فلسطینیوں کی نوجوان نسل عمومی طور پر واحد ریاست کے نظام کی حمایت کرنے لگی ہے۔ تاہم، امریکہ اور یورپی ممالک واحد ریاست کے نظام کی حمایت بھی نہیں کریں گے، کیونکہ اس میں فلسطینیوں کو کچھ حقوق دینے پڑیں گے۔ اور، وہ اس کے حق میں نہیں ہیں۔ لہذا، فلسطینی حیثیت کے بارے میں مسائل اُس وقت تک بدستور موجود رہیں گے جب تک امریکہ، برطانیہ اور فرانس جیسے سلامتی کونسل کے مستقل اراکین اُن کی حمایت نہیں کرتے۔

ظفر بخاری نے اس مسئلے کیلئے مسلمان ممالک اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ اُنہوں نے اس مسئلے کے حل کیلئے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کوئی فعال سفارتی کوششیں یا مؤثر لابنگ نہیں کی ہے۔

کل منگل کے روز پیش کی گئی قرار داد کے حق میں ہونے والی رائے شماری میں امریکہ، اسرائیل اور آسٹریلیا نے مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 15 نے ووٹ دینے سے اجتناب کیا اور 29 ممالک کے مندوبین نے رائے شماری میں حصہ ہی نہیں لیا۔

جنرل اسمبلی میں امریکہ کے نائب مستقل مندوب جوناتھن کوہن قرارداد کی مخالفت کر رہے ہیں
جنرل اسمبلی میں امریکہ کے نائب مستقل مندوب جوناتھن کوہن قرارداد کی مخالفت کر رہے ہیں

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سبکدوش ہونے والی مستقل مندوب نکی ہیلی کی عدم موجودگی میں نائب مستقل مندوب جوناتھن کوہن نے امریکی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ فلسطین کو براہ راست مزاکرات سے باہر کوئی بھی بڑی حیثیت دینے کیلئے تیار نہیں ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکہ کسی بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا۔

جوناتھن کوہن نے مزید کہا کہ امریکہ G77 کی سربراہی کیلئے فلسطینی نامزدگی کی مخالفت کرتا ہے اور اُس کا مؤقف ہے کہ اقوام متحدہ کے گروپوں کی سربراہی صرف مکمل رکن ممالک کو ہی کرنی چاہئیے۔

فلسطین کے لوگ دریائے اُردن کے مغربی کنارے، غزا کی پٹی اور مشرقی یروشلم پر مشتمل ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جس پر 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا اور مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا حصہ بنا لیا تھا۔ تاہم بین الاقوامی برادری ان علاقوں پر اسرائیل کے قبضے کو تسلیم نہیں کرتی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2012 میں فلسطین کو ایک حقیقی خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا اور فلسطین کو آبزرور کے بجائے ویٹیکن کی طرح غیر رکن ریاست کی حیثیت دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس نئی حیثیت میں فلسطین کو جنرل اسمبلی میں کچھ معاملات پر ووٹ دینے اور بین الاقوامی گروپوں میں شمولیت کا حق حاصل ہو گیا تھا۔ تاہم، ایک غیر رکن ریاست کی حیثیت سے فلسطین کو جنرل اسمبلی صرف اسی صورت میں بات کرنے کا حق حاصل ہے جبکہ تمام رکن ممالک اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہوں۔

کل منگل کے روز فلسطین کی حیثیت میں مزید تبدیلی کی قرارداد مصر نے پیش کی تھی جس کے تحت اسے G77 کی طرف سے بات کرنے، تجاویز پیش کرنے اور ترامیم میں حصہ لینے کا حق حاصل ہو گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG