رسائی کے لنکس

چین: بھکشوؤں کی گرفتاری پر اقوام متحدہ کی تنقید مسترد


چین: بھکشوؤں کی گرفتاری پر اقوام متحدہ کی تنقید مسترد

چین نے اس سال کے شروع میں صوبے سیچوان میں تین سو سے زیادہ بھکشوؤں کی حراست کے معاملے پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ادارے کی تنقید کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا ہے کہ گرفتار بھکشوؤں کو مقامی حکام قانونی تعلیم دے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی بالجبر یا اپنی مرضی کے بغیر لاپتا کیے جانے والے افراد سے متعلق تنظیم نے بدھ کے روز بیجنگ سے ان بھکشوؤں کے مقدر کے بارے میں وضاحت کی اپیل کی جنہیں اپریل میں پولیس نے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔

تنظیم نے الزام لگایا کہ بیجنگ مذکورہ افراد کے جبری غائب کیے جانے کے معاملے میں ملوث ہے۔

جمعرات کے روز چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ہونگ لی نے یہ کہتے ہوئے تنقید مسترد کردی کہ جبری لاپتا کیے جانے کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ انہوں نے ناقدین پر روز دیا کہ وہ اس معاملے پر تعصب کارویہ ترک کرکےاسے شفافیت کے تناظر میں پرکھیں۔

انہوں نے کرتی کی بودھ خانقاہ پر دی جانے والی قانونی تعلیم کی کوئی وضاحت نہیں کی لیکن یہ کہا کہ اس کا مقصد مذہبی نظم وضبط قائم رکھناہے۔

کرتی کی بودھ عبادت گاہ کے بھکشوؤں نے 21 اپریل کو خانقاہ بند کیے جانے سے قبل کئی ہفتوں تک تبت سے متعلق چینی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔

وائس آف امریکہ کی حاصل کردہ ایک ویڈیو سے، جسے نشر بھی کیا گیاتھا، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چینی سیکیورٹی فورسز خانقاہ کے گرد گشت کررہی ہیں۔ ویڈیو سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اسے مارچ میں ایک بھکشو کی ہلاکت سے قبل ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں بھکشو شعلوں میں لپٹا ہوا دکھائی دے رہاہے اور ایسا لگ رہاہے کہ شعلوں کی لپیٹ میں آنے کے بعد وہ سکتے کی کیفیت میں ہے۔ بھکشو نے تبت میں چینی فورسز کی پرتشدد پکڑ دھکڑ کی تیسری برسی کے موقع پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرنے کے لیے خود سوزی کرلی تھی۔

XS
SM
MD
LG