رسائی کے لنکس

عراق کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی کا کہنا ہے کہ موصل میں شدت پسند تنظیم داعش کی شکست "یقینی" ہے اور عراق میں اس کی نام نہاد خلافت بھی جلد ختم ہو جائے گی۔

عراق کے لیے اقوام متحدہ کے معاون مشن کے سربراہ جان کوبس نے پیر کو سلامتی کونسل کو بتایا کہ داعش کی خلافت کے دن "گنے جا چکے ہیں۔"

انھوں نے کہا کہ اس کا سہرا "عراقی فورسز بمشول دیگر متحرک فورسز، کرد پیش مرگہ اور قبائلیوں کی بہادری اور حب الوطنی کے ساتھ ساتھ عراقی عوام کے حوصلے کے سر ہے۔"

موصل عراق میں داعش کا آخری مضبوط گڑھ ہے اور کوبس نے کہنا تھا کہ اس شہر کی آزادی "یقینی" ہے اور "(داعش مخالف) کارروائیاں شام کی سرحد کے ساتھ والے علاقوں میں تنظیم کے ٹھکانوں کی طرف بھی کی جا رہی ہیں۔"

مغربی موصل میں لڑائی کے باعث مقامی لوگ علاقہ چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں
مغربی موصل میں لڑائی کے باعث مقامی لوگ علاقہ چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں

تاہم انھوں نے متنبہ کیا کہ داعش کے شدت پسندوں شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جس کا مطلب یہ کہ لڑائی اب بھی "ایک بڑا چیلنج ہے۔"

گزشتہ ہفتے ہی عراقی فوج کے حکام نے کہا تھا کہ موصل کے مغرب میں داعش کے زیر قبضہ علاقہ آٹھ مربع کلومیٹر تک سکڑ گیا ہے لیکن شہر کے قدیم حصے میں اب بھی لڑائی جاری ہے جس میں آنے والے دنوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

امریکی فورسز کی فضائی مدد کے ساتھ عراق فورسز نے گزشتہ سال اکتوبر میں موصل کو داعش سے واگزار کروانے کی کارروائی شروع کی تھی۔

موصل عراق کا دوسرا بڑا شہر ہے جس پر 2014ء کے وسط میں داعش نے قبضہ کر لیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG