رسائی کے لنکس

logo-print

اگست تک، شام پر پیش رفت دکھائی جائے: ڈی مستورا کا بیان


اقوام متحدہ کے ایلچی نے اِس بات کی نشاندہی کی کہ بات چیت کے اگلے مرحلے کے لیے ہمیں تیار ہونا پڑے گا، چونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ آخری موقع ہو، جس کے بعد عالمی سربراہ ستمبر کے وسط میں نیویارک میں اپنی سالانہ ملاقاتوں کے لیے اکٹھے ہوں گے

اقوام متحدہ کے ایلچی برائے شام، استفان ڈی مستورا نے کہا ہے کہ اگر وہ جولائی میں شام کے اندر بات چیت دوبارہ شروع کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اگست کی حتمی تاریخ تک سیاسی عبوری دور کی جانب پیش رفت کا امکان ممکن ہوگا۔

اُنھوں نے کہ بات بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس میں بریفنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے کہی۔

ڈی مستورا نے کہا کہ ’’میں چاہتا ہوں کہ اب بھی ہم جولائی میں ایسا کرسکیں گے۔ لیکن، ایسا کرنے پر کچھ نقصان ضرور ہوگا، اور بغیر ضمانتوں کے یہ ممکن نہیں ہو سکے گا؛ اور اگست ایسا وقت ہوگا جب ہمیں کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچنا چاہیئے، تاکہ ستمبر میں ہم اس پوزیشن میں ہوں کہ حاصل ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لے سکیں‘‘۔

اُنھوں نے اِس بات کی نشاندہی کی کہ بات چیت کے اگلے مرحلے کے لیے ہمیں تیار ہونا پڑے گا، چونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ آخری موقع ہو، جس کے بعد عالمی سربراہ ستمبر کے وسط میں نیویارک میں اپنی سالانہ ملاقاتوں کے لیے اکٹھے ہوں گے۔

اُنھوں نے توجہ دلائی کہ ستمبر میں جنرل اسمبلی کا اجلاس اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون اور امریکی صدر براک اوباما کی شرکت کا آخری اجلاس ہوگا۔ ادھر، ستمبر کے اوائل میں چین میں ’جی 20‘ کا سربراہ اجلاس ہوگا، جو اوباما اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان آخری ملاقات ثابت ہوسکتی ہے۔

روس اور امریکہ شام کے بارے میں اعانتی گروپ (آئی ایس ایس جی) کے شریک سربراہ ہیں اور دونوں تنازع میں ملوث کلیدی فریق کی حمایت کرتے ہیں۔ روس شام کے صدر بشار الاسد کا حامی جب کہ امریکہ معتدل مخالف گروپوں کی حمایت کرتا ہے۔

مستورا نے اخباری نمائندوں کو بتایا: ’’ہاں، میں تمام فریق پر دباؤ ڈالتا ہوں۔ میرے خیال میں جو ایسا کرنے پر قدرت رکھتے ہیں، اُن اہم فریق کو یہ محسوس کرنا چاہیئے کہ اُن پر ایک تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے‘‘۔

XS
SM
MD
LG