رسائی کے لنکس

logo-print

فلسطینی حقوق انسانی کی منظم محرومی پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے اسرائیل کی مذمت کی ہے۔

رعد ریاض الحسین نے یہ بات جمعے کے روز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کا عنوان ’مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال‘۔ اُنھوں نے کہا کہ غزہ کے 19 لاکھ افراد ’’پیدا ہونے سے فوت ہونے تک ایک زہریلی جھگی بستی میں قید ہیں‘‘۔

اس خصوصی اجلاس میں اس ہفتے غزہ سرحد کے ساتھ ہونے والے تشدد کے معاملے پر تفتیش کے لیے کمیشن تشکیل دیا جا سکتا ہے، جس میں 60 سے زائد افراد ہلاک جب کہ 2700 زخمی ہوئے۔

ہلاک شدگان میں خواتین اور بچے بھی ہیں، جن میں ایک آٹھ ماہ کی بچی شامل ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں اسرائیلی سفیر نے کہا ہے کہ کمیشن کی جانب سے غزہ کے تشدد کے واقعات کی چھان بین سے ’’زمینی صورت حال میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑے گا‘‘۔

پیر کے روز نکالی گئی احتجاجی ریلی کشیدگی میں بدل گئی، جو یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے حوالے سے نکالی گئی تھی۔ مظاہرین نے غزہ کو اسرائیل سے علیحدہ کرنے والی باڑ پر ہنگامہ آرائی کی، جس دوران رکاوٹ کی رسی کے حصے ٹوٹے اور پتھر پھینکے گئے‘‘۔

اسرائیلی افواج نے اجتماع پر فائر کھولا۔ سرحد پر آنسو گیس کے گولے پھینکے جب کہ پرواز کرنے والے ڈرون سے کارروائی کی گئی۔ صرف پیر کے روز تقریباً 60 مظاہرین ہلاک ہوئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG