رسائی کے لنکس

logo-print

ٹوئٹر کشمیر میں اظہار رائے کی پابندیوں میں معاون؟


فائل فوٹو

ٹوئٹر پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کی سینسر شپ کی پالیسی کے سامنے جھک گیا ہے جبکہ کشمیر میں آزادی اظہار رائے کے حوالے سے عائد پابندیوں میں معاون بن رہا ہے۔

خیال رہے کہ کشمیر میں ٹوئٹر کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر 'کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس' (سی پی جے) نے جمعے کو رپورٹ کا اجرا کیا تھا۔ اس رپورٹ میں کئی حقائق سامنے لائے گئے ہیں۔

سی پی جے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹوئٹر نے کشمیر کے خطے میں مجموعی طور پر اتنے اکاؤنٹ معطل کیے ہیں جتنے کسی ملک میں مجموعی طور پر کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ میں پیش کیے گئے حقائق کے مطابق ٹوئٹر کی جانب سے صارفین کے خلاف کارروائیوں کا آغاز دو سال قبل اگست 2017 میں شروع ہوا تھا۔

سی پی جے نے اپنی رپورٹ ٹوئٹر کی جانب سے ہارورد یونیورسٹی کے برکمین کلین سینٹر کو جاری کیے گئے اعداد وشمار سے مرتب کی ہے۔ یہ ڈیٹا عوام کے لیے دستیاب ہے جس میں 2017 سے کیے گئے اقدامات بھی سامنے آئے ہیں۔

خیال رہے کہ پانچ اگست کو بھارت نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی تھی جس کے بعد جموں و کشمیر میں پابندیاں عائد ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق، 12 ہفتوں سے جاری پابندیوں میں چار ہزار افراد کو بھی حراست میں لیا گیا، جبکہ وادی میں موجود سیاسی رہنما بھی مسلسل نظر بند ہیں۔

امریکی جریدے 'نیوز ویک' کی رپورٹ کے مطابق، ٹوئٹر نے کشمیر کے حوالے سے کی گئی 10 لاکھ ٹوئٹس کو معطل یا ریموو کیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 100 ٹوئٹر اکاؤنٹ ایسے ہیں جو کہ کشمیر میں نہیں دیکھنے جا سکتے، جبکہ ان اکاؤنٹس پر مقامی شہریوں تک پہنچنے پر پابندی کو دو سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔

' نیوز ویک' کے مطابق، ٹوئٹر کے ان اقدامات سے ان دعوؤں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ ٹوئٹر اپنے بنیادی بیان کیے گئے مقاصد سے انحراف کر رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دو سال میں بھارت نے ٹوئٹر کو چار ہزار سات سو سے زائد بار مختلف مواد ڈیلیٹ یا اکاؤنٹ معطل کرنے کی درخواست کی جبکہ ٹوئٹر نے 131 درخواستوں پر کارروائی کی۔ 2012 سے 2017 کے درمیان بھارت کی جانب سے 900 بار ٹوئٹر سے کسی معاملے پر کارروائی کی درخواست کی گئی تھی۔

بھارت کی حکومت کی جن 131 درخواستوں پر ایکشن لیا گیا ان میں بھی 51 فی صد درخواستیں اکاؤنٹس کی معطلی سے متعلق رہی ہیں۔

سی پی جے کے مطابق، اقوام متحدہ کے آزادی اظہار رائے سے متعلق خصوصی رپورٹیور، ڈیوڈ کے نے کہا ہے کہ کشمیر میں عام شہریوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے رضاکاروں کے لیے ٹوئٹر معلومات کی فراہمی اور اس کی ترویج کا اہم ذریعہ ہے اس لیے یہ سمجھ میں آ رہا ہے کہ بھارت نے ٹوئٹر انتظامیہ سے رابطہ کیا ہو گا۔

خیال رہے کہ ڈیوڈ کے پہلے بھی ٹوئٹر کی کشمیر سے متعلق مواد پر مبہم حکمت عملی پر خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں؛ جبکہ، انہوں نے ا س حوالے سے 2018 میں اس حوالے سے ٹوئٹر حکام کو خط بھی ارسال کیا تھا۔

خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے دو سال میں ٹوئٹر کو بھیجی گئی درخواستوں پر جن اکاؤنٹس کو معطل کیا گیا ہے ان میں مختلف ذرائع ابلاغ کے اداروں کے ٹوئٹر اکاؤنٹس بھی شامل ہیں۔

'کشمیر نریٹر' اور 'دی وائس کشمیر' کے ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی بند کیے جا چکے ہیں۔ یہ دونوں میڈیا کے ادارے کشمیر میں موجود ہیں جو کہ مقامی خبریں سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کو پہنچا رہے تھے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق 'دی وائس کشمیر' کے ایک منتظم نے انتقامی کارروائی کے خوف سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بھارت کی مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ کشمیر سے متعلق خبر کشمیر سے باہر نہ جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر بھارت کی حکومت سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کر دیتی ہے تو ہم اپنی آواز کیسے دنیا کو سنا سکتے ہیں۔

دوسری جانب ٹوئٹر کی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کے قوانین ہیں جو کہ ٹوئٹس یا کسی ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مواد پر لاگو ہوتے ہیں۔

مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹوئٹر کا ایک شفاف نظام ہے جس کے تحت ممالک یا قانونی اختیار کے حامل ادارے ٹوئٹر کو درخواستیں ارسال کر سکتے ہیں۔

ٹوئٹر انتظامیہ کے مطابق، ٹوئٹر اپنے اظہار، شفافیت اور غیر جانب داری کے بنیادی اصولوں پر قائم ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG