رسائی کے لنکس

logo-print

سلامتی کونسل: شمالی کوریا پر مزید سخت پابندیاں عائد


اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا پر نئی اور مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا پر نئی اور مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ہے۔

یہ پابندیاں شمالی کوریا کی جانب سے گزشتہ ماہ کیے جانے والے ایٹمی دھماکے کے ردِ عمل میں عائد کی گئی ہیں۔ پابندیوں کی قرارداد سے چند گھنٹے قبل ہی پیانگ یانگ حکومت نے امریکہ کے خلاف ایٹمی جنگ چھیڑنے کی دھمکی دی تھی۔

جمعرات کو سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں شمالی کوریا کے اہم اتحادی چین سمیت کونسل کے تمام 15 ارکان نے ان نئی پابندیوں کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔

نئی پابندیوں کا مقصد شمالی کوریا کو جوہری اور بیلسٹک میزائل کی ٹیکنالوجی کے حصول سے روکنا ہے۔

پابندیوں کی منظوری کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب سوزن رائس کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا ان پابندیوں کی سختی کو محسوس کرے گا اور ان کے نتیجے میں عالمی برادری میں اس کی تنہائی میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک اور شمالی کوریا کو عالمی اصول وضوابط کی پاسداری کرتے دیکھنا چاہتی ہے۔

ان پابندیوں کی زد میں پہلی بار شمالی کوریا کے سفارت کار بھی آئیں گے جب کہ پیانگ یانگ کے بینکوں سے لین دین اور بھاری رقوم کی منتقلی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

قرارداد کے تحت شمالی کوریا کے لوگوں پر سفری پابندیوں کے علاوہ پرتعیش مصنوعات – بشمول زیورات، کشتیوں اور جدید کاروں - کی درآمد پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے جس سے پیانگ یانگ کی حکمران اشرافیہ براہِ راست متاثرہوگی۔

قرارداد کی منظوری کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عالمی ادارے میں چین کے سفیر لی بائوڈونگ نے پابندیوں کے پوری طرح سے اطلاق پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنا، خطے میں جاری کشیدگی میں کمی لانا اور شمالی کوریا کو چھ فریقی مذاکرات کی جانب واپس آنے پر مجبور کرنا ہے۔
XS
SM
MD
LG