رسائی کے لنکس

logo-print

اُن کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پہ رونق


امریکا اور شمالی کوریا کے سربراہوں کی ملاقات سے دنیا میں امن کی نئی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔ دونوں طرف خواہشات کی فہرست بہت لمبی تھی۔ لیکن امریکا کا بنیادی مطالبہ تھا کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیاروں سے دست بردار ہوجائے۔ شمالی کوریا کا مطالبہ تھا کہ امریکا خطے میں فوجی مشقیں بند کرے۔

سنگاپور میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی ملاقات میں یہ دونوں وعدے کیے گئے۔ آگے کا سفر آسان دکھائی دیتا ہے جس سے خاص طور پر جزیرہ نما کوریا اور عمومی طور پر پورے خطے میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے۔

لیکن مذاکرات کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں۔ کیا امریکا اور شمالی کوریا اپنی پوزیشن سے کچھ پیچھے ہٹے ہیں یا یہ وِن وِن سچویشن ہے؟ کم جونگ اُن اپنے مطالبات منوانے میں کیسے کامیاب ہوئے؟

پاکستان میں سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارتی اور دفاعی اعتبار سے شمالی کوریا کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ ’’کل تک جس ملک اور جس لیڈر کو دنیا میں تنہا کردیا گیا تھا، جنھیں انتہاپسند کہا جارہا تھا، جن سے کوئی بات کرنے کو تیار نہیں تھا، آج امریکا نے ان سے مذاکرات کیے ہیں اور ان کے بنیادی مطالبات تسلیم کیے ہیں‘‘۔

مشاہد حسین سید نے امید ظاہر کی کہ اب ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی طرف بھی دیکھیں گے اور طویل عرصے سے حل طلب تنازعات میں دلچسپی لیں گے۔

لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز کے پروفیسر رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ ’’مشرق بعید میں امریکا کی پالیسی کا بڑا مقصد یہ رہا ہے کہ شمالی کوریا جوہری ہتھیار نہ بنائے اور اس ٹیکنالوجی سے دست بردار ہوجائے۔ اس کے علاوہ وہ میزائل کے جو تجربات کرتا رہا ہے، انھیں بھی بند کرے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس مقصد میں کامیاب ہورہے ہیں۔ شمالی کوریا پابندیوں کی وجہ سے بالکل پسماندہ رہ گیا ہے۔ اس کے لیے کامیابی یہ ہے کہ وہ جس بند گلی میں پہنچ گیا تھا، اب اس سے نکل سکتا ہے‘‘۔

یہ بات دلچسپ ہے کہ کم جونگ ان کو سنگاپور پہنچانے کے لیے چین نے اپنا طیارہ فراہم کیا تھا۔ اگرچہ مذاکرات میں چین کا کوئی رہنما شامل نہیں تھا۔ لیکن، دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں چین کا اہم کردار نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انھوں نے کہا کہ ’’شمالی کوریا اور چین میں گہرے تعلقات ہیں۔ چین اگر ساتھ نہ نبھاتا تو شمالی کوریا کے حالات بہت برے ہوتے۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ چین کو اعتماد میں لیے بغیر شمالی کوریا کوئی قدم اٹھاتا‘‘۔

جنرل طلعت مسعود کا خیال ہے کہ امریکا شمالی کوریا مذاکرات کے نتائج سے جنوبی کوریا خوش ہے۔ لیکن، جاپان زیادہ مطمئن نہیں۔ امکان ہے کہ اس کے اعتراضات دور کرنے کے لیے مستقبل میں کسی وقت مذاکرات میں اسے بھی شامل کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG