رسائی کے لنکس

مغربی موصل سے 'بڑے پیمانے پر لوگوں کے انخلا کا خدشہ'


فائل فوٹو

اقوام متحدہ کی طرف سے یہ اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب فوج موصل سے شدت پسند داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنا چاہتی ہے۔

اقوام متحدہ نے جمعرات کو کہا کہ وہ عراقی شہر موصل کے مغربی حصہ سے بڑے پیمانے پر لوگوں کے انخلا سے نمٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی طرف سے یہ اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب فوج موصل سے شدت پسند داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنا چاہتی ہے۔

عراقی فوج نے جنوری کے وسط میں موصل کے مشرقی حصہ کو آزاد کروا لیا تھا، جس کے بعد اس نے اپنی توجہ شہر کے مغربی حصہ سے داعش کا کنٹرول ختم کرنے پر مرکوز کر دی، موصل شہر پر داعش نے 2014 میں قبضہ کر لیا تھا۔

عراق میں اقوام متحدہ کی انسانی ہمدردی کی رابطہ کار لیزی گرانڈے نے بغداد سے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "(مغربی موصل) سے باہر آنے والے لوگوں کی تعداد اور انخلا کی رفتار مشرقی حصہ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔"

مشرقی موصل کو واگزار کروانے کی فوجی کارروائی سے قبل امدادی اداروں کا خیال تھا کہ یہاں سے تقریباً سات لاکھ افراد کا انخلا ہو گا تاہم حتمی طور پر پانچ لاکھ سے زائد افراد لڑائی کے دوران اپنے گھروں میں ہی مقیم رہے۔

اقوا م متحدہ کے اندازوں کے مطابق چھ لاکھ 50ہزار اور چھ لاکھ 80 ہزار کے درمیان افراد اب بھی مغربی موصل میں موجود ہیں اور ممکنہ طور پر چار لاکھ افراد شہر کے پرانے حصہ میں مقیم ہیں جو لڑائی کا محور ہے۔

اب تک ایک لاکھ 20 ہزار افراد کو پہلے ہی یہاں سے نکال لیا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر خستہ حال ہیں۔

گرینڈے نے کہا کہ جمعرات کو چھ ہزار آٹھ سو افراد شہر سے نکل آئے اور اوسطً 45 ہزار افراد ہر ہفتے مغربی موصل سے باہر آ رہے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ شہر میں پانی اور خوراک کی کمی ہے کیونکہ گزشتہ سال نومبر کے وسط سے شہر میں ضروری اشیاء کی فراہمی کی راہ میں مشکلات کی وجہ سے اس میں خلل واقع ہوتا رہا۔

گرینڈے نے متنبہ کیا کہ "اگر نقل مکانی کی رفتار ایک خاص سطح تک پہنچ جاتی ہے – اور ہمیں تشویش ہے کہ ہم اس سطح کے بہت قریب پہنچ رہے ہیں – تو ہم اس کے بارے میں فکر مند ہیں ہے کہ یہ ہمارے قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔" گرانڈے نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورت حال بہت جلد سامنے آ سکتی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ "یہ ہمارے سامنے ہے اور اگر ہم یہ دیکھیں کہ ایک لاکھ لوگ ایک ساتھ (مغربی موصل سے ) باہر آتے ہیں یا بہت تھوڑے عرصے میں ایسا ہوتا ہے تو یہ ہمارے لیے بہت ہی مشکل (صورت حال) ہو گی۔"

انہوں نے کہا کہ موصل سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے لیے 17 ہنگامی مراکز قائم کیے گئے ہیں اور مزید ایسے مراکز تعمیر کرنے کے لیے دن رات کام جاری ہے۔

انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ فروری کے وسط میں مغربی موصل کے خلاف شروع ہونے والی کارروائی کے بعد سے اب تک ایک ہزار افراد زخمی ہوئے۔ ان افراد کو صحت کے ہنگامی مراکز میں طبی امداد فراہم کی گئی ہے، ایسے تین مزید ہنگامی طبی امداد کے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG