رسائی کے لنکس

logo-print

شام کی دوتہائی آبادی کو فاقہ کشی کا سامنا


ادلب (فائل)

اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ اندازاً 62 لاکھ شامی اندرونی طور پر بے دخل ہوچکے ہیں۔ انسانی امور کے رابطہ کار ادارے کے ترجمان، ژان لارکے کا کہنا ہے کہ آٹھ برس کی جنگ و جدل نے شام کو دنیا کے سنگین بحران سے ہمکنار کر دیا ہے

اقوام متحدہ کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ شام کی ایک کروڑ 17 لاکھ کی آبادی یا ملک کی دوتہائی آبادی کو زندہ رہنے کے لیےبین الاقوامی اعانت کی فوری ضرورت ہے۔

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عالمی ادارے نے خودساختہ منصوبہ تیار کیا ہے جس میں برسلز میں شام پر بین الاقوامی کانفرنس سے قبل غذائی ضروریات کی تفصیل درج ہے۔ یہ اجلاس 12 سے 14 مارچ تک منعقد ہوگا۔

اقوام متحدہ نے اب تک شام کے انسانی ہمدردی کے منصوبے پر ڈالر میں خرچ سے متعلق تفصیل نہیں پیش کی۔

لیکن گزشتہ سال ادارے نے 3.36 ارب ڈالر رقوم دینے کی اپیل کی تھی، جب کہ 2019ء میں پریشان حال شہری آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنا ارزاں معاملہ نہیں ہوگا۔

حکومت شام نے اپنے روسی حامیوں کی مدد سے بڑی سطح کی فوجی اور علاقائی برتری حاصل کی ہے۔ اس کے باوجود، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ لڑائی یا انسانی بحران جس نے شہری آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، ابھی ختم نہیں ہوا۔

اپنی رپورٹوں میں اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ اندازاً 62 لاکھ شامی اندرونی طور پر بے دخل ہوچکے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ 80 فی صد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے، جس میں محرومی کے شکار دائمی سطح کے معاملات شامل ہیں۔

انسانی امور کے رابطے کار ادارے کے ترجمان، ژان لارکے کا کہنا ہے کہ آٹھ برس کی جنگ و جدل نے شام کو دنیا کے سب سے بڑے بحران سے ہمکنار کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے پیکیج میں غذا، پناہ، صحت کی دیکھ بھال، پانی اور صفائی ستھرائی کی تفصیل درج ہے۔ اس میں ملک میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، جہاں 20 لاکھ سے زیادہ لڑکے اور لڑکیاں اسکول نہیں جا پا رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG