رسائی کے لنکس

logo-print

15 برسوں میں ایک ارب آبادی کو غربت سے نکالا گیا: اقوام متحدہ


ادارے کے ایک عہدیدار، ایڈوارڈو مورینو نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ خاص طور پر مشرقی افریقی خطے میں اہداف کے حصول کے لیے مختلف اقدامات کرنے کی ضرورت ہے

اقوام متحدہ نے 15 سالہ ترقیاتی اہداف ’ملینیئم ڈویلپمنٹ گولز‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ ان برسوں میں دنیا کی تقریباً ایک ارب آبادی کو غربت سے نکالنے میں کامیاب ہوا ہے۔

آبادی اور انسانوں سے متعلق عالمی تنظیم کے دفتر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا یہ منصوبہ دیگر اہداف کے مقابلے میں سب سے زیادہ کامیاب رہا ہے۔

لیکن، نیروبی میں جاری کی گئی 2015ء کی ملینیئم ڈویلپمنٹ گولز رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ سب سہارن افریقی خطہ دیگر علاقوں کی نسبت پیچھے ہے جہاں اب بھی بہت سے لوگ شدید امتیازی سلوک سے نبرد آزما ہیں۔

ادارے کے ایک عہدیدار، ایڈوارڈو مورینو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ خاص طور پر مشرقی افریقی خطے میں اہداف کے حصول کے لیے مختلف اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

بقول اُن کے، ’پہلے تو مخصوص پالیسیوں پر دور رس تصور کی ضرورت ہے، پھر یہاں شہری اور دیہی آبادی میں بہتر رابطوں کی ضرورت ہے اور تیسرا مختلف سطحوں پر کام کے لیے مضبوط اداروں کی ضرورت ہے۔‘

اقوام متحدہ کے مطابق دو دہائی قبل ترقی پذیر دنیا کی تقریباً نصف آبادی انتہائی غربت میں زندگی گزار رہی تھی۔ 1990ء میں یہ تعداد تقریباً دو ارب تھی جو رواں برس 83 کروڑ 60 لاکھ ہوگئی ہے۔

مختلف شعبوں میں صنفی مساوات کی صورتحال میں بھی خاطر خواہ بہتری آئی ہے خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں جہاں لڑکے اور لڑکیوں کے شرح تقریباً برابر ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایچ آئی وی/ایڈز سے متاثر ہونے والوں کی شرح میں 40 فیصد کمی دیکھی گئی جو عالمی سطح پر 35 لاکھ سے کم ہو کر 21 لاکھ ہو چکی ہے۔

سب سہارن افریقہ میں بعض شعبوں میں بہتری بھی دیکھی گئی، حالانکہ اس خطے میں بچوں کی اموات کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے، لیکن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ماضی کی نسبت اس میں کمی ہوئی ہے۔ 1990ء میں ایک ہزار بچوں میں سے 179 پانچ سال سے کم عمر میں ہی انتقال کر جاتے تھے جب کہ اب یہ تعداد کم ہو کر 86 ہو گئی ہے۔

لیکن، رپورٹ میں کہا گیا کہ اس خطے کو فوری طور پر ترقی کے لیے اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG