رسائی کے لنکس

logo-print

میانمار میں چھ لاکھ روہنگیا نسل کشی کے خطرے کا شکار ہیں: اقوامِ متحدہ


فائل فوٹو

میانمار میں نسل کشی سے متعلق تحقیقات کرنے والے اقوامِ متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ رخائن میں باقی رہ جانے والے روہنگیا مسلمان اب بھی نسل کشی کے سنگین خطرے کا شکار ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے تفتیشی مشن نے پیر کو ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ میانمار کی فوج کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جانے والے 10 لاکھ سے زائد افراد اب ممکنہ طور پر وطن واپس نہیں آئیں گے۔

خبر رساں ادارے’ اے ایف پی‘ کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میانمار کی ریاست رخائن میں رہنے والے چھ لاکھ روہنگیا اب بھی بگڑتے ہوئے افسوسناک حالات میں رہنے پر مجبور ہیں۔

رپورٹ کے مطابق میانمار اپنے نسل کشی کے ارادوں کو جاری رکھے ہوئے ہے جس کے باعث رخائن میں باقی بچ جانے والے روہنگیا افراد نسل کشی کے سنگین خطرے کا شکار ہیں۔

یہ میانمار میں نسل کشی کی تحقیقات کرنے والی اقوامِ متحدہ کی تفتیشی کمیٹی کی حتمی رپورٹ ہے۔ جسے منگل کو جینیوا میں واقع اقوامِ متحدہ کے دفتر میں جمع کرایا جائے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میانمار اپنے غلط کاموں کی تردید کرتے ہوئے اپنے خلاف ثبوتوں کو ضائع کرتا رہا ہے۔ میانمار وہ زمینیں ضبط کر رہا ہے جہاں سے روہنگیا افراد کو بے دخل کیا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے تفتیش کاروں کے مطابق روہنگیا مسلمان غیر انسانی ماحول میں رہ رہے ہیں۔ ان کی 40 ہزار تعمیرات 2017 کے کریک ڈاؤن کے دوران تباہ کر دی گئی تھیں۔

اقوامِ متحدہ کے مشن نے سکیورٹی کونسل سے سفارش کی ہے کہ وہ میانمار کا کیس انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کو بھجوائے اور اس پر ایک ٹریبیونل تشکیل دیا جائے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے تفتیش کاروں کے پاس ایسے 100 عہدے داروں کی فہرست ہے جو نسل کشی، انسانی اور جنگی جرائم میں ملوث رہے ہیں۔

رپورٹ میں ان افراد کے نام ظاہر نہیں کیے گئے لیکن گزشتہ سال فیکٹ فائنڈنگ مشن نے آرمی آپریشن کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے اس کا ذمّہ دار فوج کے چھ اعلیٰ افسران کو قرار دیا تھا جن میں میانمار کے آرمی چیف من آنگ لنگ بھی شامل تھے۔

دوسری جانب میانمار کی فوج کے ترجمان جنرل زا من تن نے اقوامِ متحدہ کی ٹیم کی تحقیقات کو مسترد کرتے ہوئے اسے یک طرفہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے ’اے ایف پی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی ٹیم جانب دارانہ الزامات عائد کرنے کے بجائے خود ان مقامات پر جا کر سچائی دیکھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG