رسائی کے لنکس

logo-print

میانمار کی فوج روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی چاہتی تھی: اقوامِ متحدہ


حقائق جاننے پر مامور اقوام متحدہ کے مشن نے رپورٹ دی ہے کہ میانمار کی فوج روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے عزائم رکھتی تھی، جب وہ 2017ء میں لاکھوں کی تعداد میں ملک چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے۔

یہ رپورٹ جمعرات کے روز جاری کی گئی ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میانمار کی حکومت بین الاقوامی معاہدے کی رو سے نسل کشی کے الزامات لگنے کی چھان بین کرکے، اس میں ملوث افراد کو سزا دینے کی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہی ہے۔

رپورٹ جاری کرتے ہوئے، مشن کی ایک ماہر، ردھیکا کماراسوامی نے کہا ہے کہ ’’ہمیں کہا گیا ہے کہ ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے معاملات کا جائزہ لیں۔ بنیادی طور پر اس کی ذمے داری ’ٹٹمادا‘ کی ہے‘‘۔ ’ٹٹمادا‘ سے مراد میانمار کی فوج ہے۔

سال 2017کے اگست اور ستمبر کے مہینوں کے دوران 700000 سے زائد روہنگیا میانمار کے شمال میں واقع رخائین کی ریاست سے بھاگ نکلے، جہاں روہنگیا جنگجوؤں نے ریاست کی سیکورٹی افواج پر حملے کیے، جس کے بعد فوجی کارروائیاں کی گئیں۔ انھوں نے ابھی تک ہمسایہ بنگلہ دیش کے مہاجر کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

حقائق جاننے والے مشن نے جسمانی اور جنس کی بنیاد پر تشدد کی کارروائی پر دھیان مبذول رکھا، جس معاملے کے بارے میں بنگلہ دیش پہنچنے والے مہاجرین نے بڑے پیمانے پر شکایات کیں۔

مشن اس نتیجے پر پہنچا کہ ’ٹٹمادا‘ مسلمان اقلیتی گروپ کے خلاف ’’نسل کشی‘‘ میں ملوث رہی۔ اس سلسلے میں وہ ’’جان بوجھ کر روہنگیا خواتین اور بچیوں کو نشانہ بنا رہی تھی، تاکہ مکمل طور پر یا کسی حد تک روہنگیاؤں کو تباہ کیا جا سکے‘‘۔

اس سلسلے میں روہنگیا کی خواتین کا قتل اور جوان بچیوں کے ساتھ آبروریزی کی جاتی تھی؛ جس میں ان کے تولیدی اعضا کو مسخ کرنا یا کاٹنا شامل تھا، جب کہ حاملہ خواتین اور کم عمر بچوں پر حملے کیے جاتے تھے۔

بے رحمی برتے جانے کے حوالے سے، کماراسوامی نے کہا کہ ’’ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وزارت ’ٹٹمادا‘ کی حکمت عملی یہ تھی کہ چار قسم کی اذیت رسانی پر عمل درآمد کیا جائے، جس میں شہری آبادی کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت تھی، تاکہ ایک حربے کے طور پر سولین آبادی کو ڈرایا جائے اور سزا دی جائے‘‘۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سولین آبادی کے خلاف تشدد تبھی ممکن تھا جہاں ’’ایک عرصے تک رواداری اور برداشت کا ماحول رہا ہو، جس میں فوجی اہلکاروں کے پاس سزا دینے یا انضباطی اقدام کا کوئی جائز جواز نہیں تھا‘‘۔

کماراسوامی نے کہا کہ احتساب ہونا چاہیے۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ احتساب ایک خصوصی عدالت یا پھر بین الاقوامی عدالت انصاف کر سکتی ہے۔ بقول ان کے ’’ہم نہیں سمجھتے کہ اس کے علاوہ داخلی طور پر میانمار میں کسی قسم کا انصاف ہو سکتا ہے‘‘۔

دریں اثنا، روہنگیا آبادی کے ایک چھوٹے گروہ کو بنگلہ دیش سے وطن واپس بھیجنے کا کام رک گیا ہے۔

مہاجرین سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے نے 3400 روہنگیا مہاجرین کے گروپ کا جائزہ لیا ہے، جن کے نام کی حکومت نے منظوری دی ہے، آیا وہ میانمار واپس جانا چاہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان، اسٹیفن دجورے نے جمعرات کے روز بتایا کہ ’’اب تک جن افراد کا انٹرویو کیا گیا ہے ان میں سے کسی نے بھی وطن واپس جانے پر رضامندی کا اظہار نہیں کیا‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG