رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا نے اپنا جوہری، میزائل پروگرام نہیں روکا: اقوامِ متحدہ


یہ تصویر 16 ستمبر 2017ء کو لی گئی تھی جس میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان میزائل تجربے کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

رپورٹ اقوامِ متحدہ کی جانب سے شمالی کوریا پر عائد پابندیوں پر عمل درآمد کی نگرانی کرنے والے غیر جانب دار ماہرین نے مرتب کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ایک خفیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شمالی کوریا نے عالمی ادارے کی پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنا جوہری اور میزائل پروگرام بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق مذکورہ رپورٹ اقوامِ متحدہ کی جانب سے شمالی کوریا پر عائد پابندیوں پر عمل درآمد کی نگرانی کرنے والے غیر جانب دار ماہرین نے مرتب کی ہے۔

ماہرین کا یہ پینل ہر چھ ماہ بعد اپنی یہ رپورٹ سلامتی کونسل کو پیش کرتا ہے اور تازہ رپورٹ جمعے کو سلامتی کونسل کی شمالی کوریا پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کو پیش کی گئی ہے۔

'رائٹرز' کے مطابق اسے رپورٹ کی ایک نقل ملی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا عالمی ادارے کی جانب سے عائد پابندیوں کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اس نے اپنا جوہری اور میزائل پروگرام نہیں روکا ہے۔

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ 2018ء کے دوران شمالی کوریا کی جانب سے بحری جہازوں کے ذریعے خفیہ طور پر پیٹرولیم مصنوعات اور کوئلے کی منتقلی میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا جو عالمی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔

لگ بھگ ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شمالی کوریا کی حکومت اقوامِ متحدہ کی جانب سے عائد کسی بھی عالمی پابندی کو خاطر میں نہیں لا رہی۔

رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا اور شام کے درمیان فوجی تعاون بدستور جاری ہے جب کہ پیانگ یانگ حکومت یمن کے وسیع علاقے پر قابض حوثی باغیوں کو ہتھیار فروخت کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔

ماہرین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ شمالی کوریا پر ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کرنے پر پابندی ہے لیکن اس نے اکتوبر 2017ء سے مارچ 2018ء کے دوران 10 کروڑ ڈالر مالیت کی ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کیں۔

شمالی کوریا سے یہ مصنوعات خریدنے والوں میں چین، گھانا، بھارت، میکسیکو، سری لنکا، تھائی لینڈ، ترکی اور یورا گوئے شامل تھے۔

اقوامِ متحدہ کے لیے شمالی کوریا کے مشن نے ماہرین کی اس رپورٹ پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت منظرِ عام پر آئی ہے جب چین اور روس نے سلامتی کونسل کو تجویز دی ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے درمیان ملاقات اور اس میں ہونے والے اتفاقِ رائے کے بعد پیانگ یانگ پر پابندیاں نرم کرنے پر غور کرے۔

جون میں سنگاپور میں ہونے والی اس تاریخی ملاقات میں کم جونگ ان نے خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

لیکن چین اور روس کے مؤقف کے برعکس امریکہ اور کونسل کے دیگر ارکان کا کہنا ہے کہ پیانگ یانگ کی جانب سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد تک اس پر پابندیوں کا سختی سے نفاذ جاری رہنا چاہیے۔

سلامتی کونسل نے 2006ء میں متفقہ طور پر شمالی کوریا پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں جن کا مقصد اس کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے وسائل کی فراہمی روکنا تھا۔

ان پابندیوں کے تحت شمالی کوریا پر کوئلہ، لوہا، سیسہ، ٹیکسٹائل مصنوعات اور سمندری خوراک برآمد کرنے پر پابندی لگادی گئی تھی جب کہ خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کو بھی محدود کردیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG