رسائی کے لنکس

عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر تعزیت کا سلسلہ جاری، وکلا کا یومِ سوگ


اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے پاکستان کی معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی علم بردار عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر کہا ہے کہ ’’ہم نے انسانی حقوق کی ایک قدر آور شخصیت کھو دی ہے۔‘‘

ایک بیان میں سیکرٹری جنرل گوتیرس نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کے انتقال کی خبر آج نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں گونج رہی ہے۔

عاصمہ جہانگیر اتوار کو دل کی تکلیف کے باعث لاہور میں 66 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اپنے بیان میں کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے مساوی حقوق کے لیے انتھک کام کیا اور ’’وہ با اصول، بہادر اور مہربان (خاتون تھیں)۔‘‘

اپنے بیان میں سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ ’’عاصمہ جہانگیر کو بھلایا نہیں جائے گا۔‘‘

عاصمہ جہانگیر کے اچانک انتقال پر نہ صرف حکومت کے اعلیٰ عہدیداران بلکہ مقامی اور ملک سے باہر بھی سماجی حقوق کے کارکن اپنے اپنے طور پر تعزیت کا اظہار کر رہے ہیں۔

آزادی اظہار اور آزادی صحافت کو فروغ دینے والی بین الاقوامی تنظیم Reporters Without Borders یعنی RSF نے اپنے ایک بیان میں عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُنہوں نے پاکستان اور دنیا بھر میں آزادی اظہار کا دفاع کرنے کیلئے اپنی تمام زندگی وقف کر دی تھی۔ RSF کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل اینٹوئن برنارڈ کا کہنا ہے کہ اُن کے انتقال سے انسانی حقوق اور آزادی اظہار کی عالی تحریک کو شدید دھچکا لگا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’بے زبانوں، بے سہاروں اور ظالموں کے ستائے ہوئے مظلوموں کی آواز آج خاموش ہو گئی۔‘‘

وزیرِ اعظم کا اپنے تعزیتی بیان میں کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر نے آمریت کو ڈٹ کر للکارا، انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف بے جگری سے لڑیں اور سچ کو بے دھڑک بیان کرنے کی روایت ڈالی۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کے چیئرمین ڈاکٹر مہدی حسن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ عاصمہ جہانگیر نہ صرف ایچ آر سی پی کے بانیوں میں شامل تھیں بلکہ وہ ایک مثالی وکیل، انسانی حقوق کی نامور علم بردار، جمہوریت کی پر زور حامی اور محروم طبقات کی ایک بہادر ساتھی بھی تھیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام لوگوں کے حقوق کے تحفظ اور جمہوری نظام کی ترقی کی جدوجہد کو فروغ دینے کے لیے عاصمہ نے اپنے چند دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر 1986ء میں 'ایچ آر سی پی' کی بنیاد ڈالی تھی۔

واضح رہے کہ عاصمہ جہانگیر ماضی میں 'ایچ آر سی پی' کے سیکرٹری جنرل اور چیئرپرسن کے عہدوں پر بھی فائز رہیں جب کہ وہ وفات سے قبل تک ایران میں اقوامِ متحدہ کی خصوصی رپورٹیئر برائے انسانی حقوق کے طور پر بھی کام کر رہی تھیں۔

اُدھر ملک کے مختلف حصوں میں وکلا تنظیمیں عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر پیر کو یومِ سوگ منارہی ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کی نمازِ جنازہ منگل کو لاہور میں ادا کی جائے گی۔

اُدھر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایک خط کے ذریعے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے عاصمہ جہانگیر کی تدفین سرکاری طور پر کرانے کی درخواست کی ہے۔

وفاقی حکومت کی طرف سے تاحال اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG