رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا کا میزائل تجربہ، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب


شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'کے سی این اے' نے اسے کامیاب تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ "کوریئن اسٹائل کا ایک نیا اسٹریٹیجک سسٹم ہے"

شمالی کوریا کے تازہ ترین بیلسٹک میزائل تجربے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس پیر کو ہو رہا ہے۔

یہ اجلاس امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کی درخواست پر طلب کیا گیا ہے۔

اتوار کو شمالی کوریا نے میزائل تجربہ کیا تھا اور جنوبی کوریا کے فوجی حکام کے بقول یہ میزائل تقریباً پانچ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے جاپان کے سمندر میں گرا تھا۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'کے سی این اے' نے اسے کامیاب تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ "کوریئن اسٹائل کا ایک نیا اسٹریٹیجک سسٹم ہے" اور اس تجربے کو راہنما کم جونگ اُن نے بھی دیکھا۔

جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اس تجربے کو "ناقابل برداشت" قرار دیا تھا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے اتحادی جاپان کے ساتھ کھڑا ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جنز اسٹولٹنبرگ نے میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے اسے پیانگ یانگ کی طرف سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پہلے متعدد بار کی جانے والی خلاف ورزیوں کا سلسلہ قرار دیا۔

گزشتہ سال شمالی کوریا دو جوہری تجربے اور متعدد میزائل تجربات کر چکا ہے جس پر اسے عالمی برادری کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا رہا، تاہم اس ملک کے راہنما کم کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا اپنے پروگرام پر کاربند رہے گا۔

XS
SM
MD
LG