رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا کا میزائل تجربہ 'ناقابل برداشت' ہے: ایبے


جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کی طرف سے جاپان کے سمندر میں داغا گیا بیلسٹک میزائل "ناقابل برداشت" عمل ہے۔

شمالی کوریا نے اتوار کو علی الصبح ایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے جسے گزشتہ ماہ ہی امریکہ کا منصب صدارت سنبھالنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پیانگ یانگ نے تو اس تجربے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا ایک راکٹ تھا جو کہ جاپان میں اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل ہو سکتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس کی بنا پر یہ کہا جاسکے کہ شمالی کوریا کا یہ تجربہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تھا جو ممکنہ طور پر امریکہ تک مار کر سکتا ہے۔

ایبے فلوریڈا میں امریکی صدر ڈونلڈ کے ساتھ عشائیے میں شریک تھے جہاں انھیں اس بارے میں اطلاع دی گئی۔

ہنگامی طور پر بلائی گئی پریس کانفرنس میں جاپانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس بارے میں منظور کردہ تمام قراردادوں کا احترام کرنا چاہیے۔

"صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں انھوں (ٹرمپ) نے مجھے یقین دلایا تھا کہ امریکہ سو فیصدی جاپان کے ساتھ ہوگا اور اس بارے میں مکمل عزم کا اظہار کرے گا۔ یہ (امریکی صدر) آج میرے ساتھ پریس کانفرنس میں بھی ہیں۔"

ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں اپنے جامع بیان میں کہا کہ "میں چاہتا ہوں کہ ہر کوئی یہ بات پوری طرح سے سمجھ لے کہ امریکہ جاپان کے پیچھے کھڑا ہے، اس کا عظیم اتحادی (ہے) ۔"

امریکہ محکمہ دفاع نے ہفتہ کو دیر گئے کہا کہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل شمال مغربی شہر کائی سانگ کے قریب سے داغا گیا جو کہ بحیرہ جاپان تک گیا اور "شمالی امریکہ کے لیے کسی طور خطرہ نہیں تھا۔"

شمالی کوریا نے گزشتہ سال دو جوہری تجربات اور لگ بھگ دو درجن کے قریب راکٹ تجربات کیے تھے۔ اس کے راہنما کم جونگ اُن نے سال نو کی ایک تقریب میں اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل پروگرام کے "حتمی مرحلے تک پہنچ گیا ہے۔"

لیکن مغربی مبصرین نے کم کے اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔

اُس وقت ٹرمپ نے کم کے اس دعوے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ "ایسا نہیں ہوگا۔"

XS
SM
MD
LG