رسائی کے لنکس

logo-print

غزہ پر اسرائیلی حملے، سلامتی کونسل کا اجلاس طلب


فلسطینی حکام کے مطابق غزہ پر گزشتہ دو روز سے جاری اسرائیلی بمباری سے ہونے والی ہلاکتیں 47 ہوگئی ہیں جب کہ 200 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر غور کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔

پندرہ رکنی کونسل کا اجلاس جمعرات کو نیویارک کے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے منعقد ہوگا جس میں غزہ سے اسرائیل پر راکٹ باری اور اسرائیل کے جوابی فضائی حملوں سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے گا۔

عالمی ادارے میں روانڈا کے سفیر – جو رواں ماہ سلامتی کونسل کے صدر ہیں – نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور اسرائیل اور فلسطینی کے سفیر کونسل کے ارکان کے علاقے کی صورتِ حال پر بریفنگ دیں گے جس کے بعد کونسل کا بند کمرہ اجلاس ہوگا۔

بدھ کو تمام دن غزہ کے فلسطینی علاقے پر اسرائیل کے فضائی حملوں اور بمباری کا سلسلہ جاری رہا جب کہ فلسطینی مزاحمت کاروں نے بھی اسرائیل پر راکٹ باری جاری رکھی۔

فلسطینی حکام کے مطابق غزہ پر گزشتہ دو روز سے جاری اسرائیلی بمباری سے ہونے والی ہلاکتیں 47 ہوگئی ہیں جب کہ 200 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

بدھ کو اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عالمی ادارے کے سربراہ بان کی مون نے غزہ کی صورتِ حال کو "پریشان کن اور کشیدہ" قرار دیتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔

بان کی مون کا کہنا تھا کہ وہ غزہ سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کی مذمت کرتے ہیں اور یہ حملے قطعی ناقابلِ قبول ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملتمس ہیں کہ وہ ہر ممکن برداشت سے کام لیں اور عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

بان کی مون نے کہا ہے کہ انہیں غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر گہری تشویش ہے اور وہ ان ہلاکتوں کی بھی مذمت کرتے ہیں۔

بدھ کو عالمی ادارے کے سربراہ نے اپنا بیشتر وقت بین الاقوامی اور علاقائی رہنماؤں کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتِ حال پر گفتگو میں صرف کیا۔

بان کی مون نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو، فلسطین کے صدر محمود عباس، امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، سعودی عرب کے شاہ عبداللہ اور قطر کے امیر کو ٹیلی فون کیے اور خطے کی کشیدہ صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا۔

بعد ازاں بان کی مون نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے مصر کے صدر اور دیگر علاقائی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ غزہ اور اسرائیل کی حکومت کے درمیان نومبر 2012ء میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کو دوبارہ موثر بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔

بان کی مون کے مطابق مصر کے صدر السیسی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ فریقین کو لڑائی بند کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے۔

XS
SM
MD
LG