رسائی کے لنکس

logo-print

امن عمل کی بحالی، عباس کا بین الاقوامی کانفرنس بلانے کا مطالبہ


فلسطینی صدر محمود عباس نے اس سال کے وسط تک بین الاقوامی امن کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ مشرق وسطیٰ امن عمل میں آنے والا تعطل توڑا جا سکے۔

اسرائیل فلسطین تنازع پر منگل کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ماہانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، عباس نے کہا کہ ’’تعطل کا سامنا ہے۔ ہم نے نا تو شکست مانی ہے ناہی توقعات ترک کیں ہیں‘‘۔

فلسطینی راہنما نے اس طرح کے اجلاس میں وسیع تر علاقائی اور بین الاقوامی شرکت کی حمایت کا اظہار کیا اور اُنھوں نے اپنی سوچ کی وضاحت کی جسے اُنھوں نے ’’امن منصوبہ‘‘ قرار دیا۔

سنہ 2009 کے بعد پہلی بار عباس نے 15 رکنی کونسل سے خطاب کیا۔

اُن کے منصوبے میں ایسے اقدام کرنا شامل ہے جس سے مذاکرات کے دوران کوئی فریق یکطرفہ اقدامات سے اجتناب کرے، اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی تعمیر کی سرگرمیاں بند کی جائیں اور امریکہ کی طرف سے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔

اپنے طور پر فلسطینی مزید بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں سے اجتناب کریں۔

عباس نے مزید کہا کہ فلسطینی تنازع کے حل ہونے کے بعد، 57 عرب اور مسلمان ممالک اسرائیل کی ریاست کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوں گے۔

عباس نے کہا کہ ’’اپنے عوام کی رہائی اور آزادی کے حصول کے بعد، ہم فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کرنے پر تیار ہیں‘‘۔

فلسطینی صدر نے نیو یارک میں کونسل کے کھچا کھچ بھرے اجلاس سے خطاب کیا اور اُن کے کلمات پر دیر تک تالیاں بجا کر خیر مقدم کیا گیا۔ اُنھوں نے جیسے ہی تقریر ختم کی عباس کمرے سے باہر چلے گئے، اور اسرائیل اور امریکی سفیروں کے خیالات سننے سے محروم رہے، جنھوں نے اُن کے بعد کونسل سے خطاب کیا۔
اسرائیل کے ایلچی نے عباس کی جانب سے تقریر کے بعد ’’بھاگ نکلنے‘‘ پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ ’’وہ حل کے حصول کا مزید حصہ نہیں رہے‘‘، بلکہ مسئلے کا حصہ ہیں۔

اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینون نے کونسل کے ارکان سے کہا کہ ’’مسٹر عباس اندر آئے، میز پر اپنے مطالبات رکھے اور چل دیے، اور امید رکھتے ہین کہ نتائج حاصل ہوں گے۔ ایسا نہیں ہو سکتا‘‘۔

یروشلم کا معاملہ

صدر عباس دسمبر میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلم کرنے اور سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے پر برہم ہیں، اور منگل کو کونسل کو بتایا کہ یہ اقدام ’’غیرقانونی‘‘ ہے۔

غیر معذرت خواہانہ انداز میں، نکی ہیلی نے کہا کہ ’’امریکہ جانتا ہے کہ فلسطینی قیادت سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے پر انتہائی ناخوش ہے۔ ضروی نہیں کہ آپ اس فیصلے کو پسند کریں۔ ضروری نہیں کہ آپ اس کی تعریف کریں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ اسے تسلیم کریں۔ لیکن، جان لیں کہ یہ فیصلہ تبدیل نہیں ہوگا‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ فلسطینی امریکہ کی مذمت کر سکتے ہیں اور امن کی ثالثی کے اس کے کردار کو مسترد کرسکتے ہیں، لیکن ان باتوں سے فلسطینی عوام کسی طور پر بھی اپنی خواہشات کی تکمیل نہیں کر پائیں گے۔

ہیلی نے کہا کہ ’’میں یہاں بیٹھی ہوں۔ امن کے مقدمے میں امریکہ نے فلسطینی عوام کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ہے‘‘۔ اُن کی پچھلی نشست پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے داماد، جیرڈ کُشنر تشریف رکھتے تھے، جو مشرق وسطیٰ امن کوششوں کے حوالے سے وائٹ ہاؤس میں سرکردہ کردار ادا کر رہے ہیں، ساتھ ہی بین الاقوامی مذاکرات کے لیے ٹرمپ کا خصوصی نمائندہ، جیسن گرین بلیٹ بیٹھے تھے۔

امریکی ترجمان نے منگل کے روز کہا ہے کہ تینوں اہل کاروں کا نیو یارک میں عباس سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوتا رہا ہے، اس خوف کو بڑھاوا دیتے ہوئے کہ اس کے باعث کوئی نیا تنازع کھڑا ہو سکتا ہے۔ غزا کی پٹی میں لوگوں کا رہن سہن مزید شدت اختیار کر رہا ہے، جس میں بجلی کی ترسیل 20 گھنٹوں تک رکی رہتی ہے۔ اور، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل، انتونیو گئیترس نے منگل کے روز متنبہ کیا کہ دو ریاستی حل پر حاصل ہونے والی عالمی کثرت رائے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوسکتی ہے۔

بقول اُن کے، ’’سرزمین پر موجود رکاوٹوں کے نتیجے میں ایک ریاست کی نہ تبدیل ہونے والی حقیقت کا امکان ابھر سکتا ہے۔ یہ انتہائی ناممکن ہے کہ ایک ریاستی حل کو منہا کیا جائے، جس میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کی جائز قومی، تاریخی اور جمہوری خواہشات شامل ہوں‘‘۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نےاس بات پر زور دیا ہے کہ معاملات کے حتمی حل کو مدِ نظر رکھا جائے، ’’چونکہ اِن کا کوئی متبادل نہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG