رسائی کے لنکس

logo-print

یمن: امدادی کام کے لیے، عالمی ادارے کو 1.8 ارب ڈالر درکار


اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے کے سربراہ، اسٹیفن اوبرائن نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ اِس سلسلے میں جمعرات کو باضابطہ اپیل کی جائے گی

اس سال یمن میں انسانی بنیادوں پر متاثرہ لاکھوں افراد کی امداد کے لیے، اقوام متحدہ بین الاقوامی عطیہ دہندگان سے 1.8 ارب ڈالر اکٹھے کرنے کے لیے کہے گا۔

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے کے سربراہ، اسٹیفن اوبرائن نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ اِس سلسلے میں جمعرات کو باضابطہ اپیل کی جائے گی۔

اُنھوں نے گذشتہ 12 ماہ کے دوران یمن میں ہونے والی تباہی کے بارے میں تفصیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقوم ایک کروڑ 60 لاکھ افراد کی خوراک، پانی، صفائی ستھرائی اور صحت عامہ کی فوری ضروریات پوری کرنے پر خرچ کی جائیں گی۔

حوثی باغیوں اور صدر عبد ربو منصور ہادی کی حکومت کے درمیان تنازع مارچ 2015ء میں اُس وقت شدت اختیار کر گیا جب حوثیوں نے، جو پہلے ہی یمن کے دارالحکومت پر قابض تھے، ہادی کو عدن کی بندرگاہ والے شہر کی جانب دھکیلا، جو بعد میں سعودی عرب جا پہنچے۔
سعودی عرب نے ہادی کی مدد اتحاد قائم کرکے کی، جس نے حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کیں۔

او برائن نے منگل کے روز کہا کہ لڑائی میں 6000 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سے نصف تعداد شہریوں کی ہے، جب کہ 27 لاکھ افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
اسکولوں کی عمارتوں کی تباہی یا عملے کی عدم موجودگی کے باعث لاکھوں بچوں کو تعلیم کی سہولت میسر نہیں، جب کہ صحت کی سینکڑوں تنصیبات بند پڑی ہیں۔
او برائن نے اُن مشکلات کی نشاندہی کی جو امداد کی فراہمی کے حوالے سے حوثیوں، سرکار اور شدت پسند گروہوں کےکنٹرول والے علاقوں میں درپیش ہیں، جب کہ اُنھوں نے انسانی بنیادوں پر رسائی کی سہولت کی ذمہ داری کے احساس پر زور دیا۔

XS
SM
MD
LG