رسائی کے لنکس

logo-print

شیعہ ثقافتی مرکز پر حملہ ’’تنگ نظری کی واضح مثال‘‘: یونیسکو


تعلیم اور ثقافت سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے (یونیسکو) کے ڈائرکٹر جنرل، آندرے ازولے نے 28 دسمبر کو کابل میں ’شیعہ ثقافتی مرکز‘ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی مذمت کی ہے، جس میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے، جن میں صحافی سید مہدی حسینی بھی شامل تھے، جب کہ 80 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

آندرے ازولے نے کہا ہے کہ ’’میں اس حملے کی مذمت کرتا ہوں جو مردم بیزاری پر مبنی سوچ کی غماز ہے، جس سے اخباری نمائندے سید مہدی حسینی کے علاوہ متعدد سولین ہلاک ہوئے‘‘۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ ’’سولین لوگ، جو ایک گروپ مکالمے میں مصروف تھے، اُنھیں ہدف بنانا اس بات کا ایک واضح ثبوت ہے کہ شدت پسند بنیادی انسانی حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی کے دشمن ہیں، جو ایک اہم حق کی حیثیت رکھتا ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی اور صحافیوں کے کردار کو نمایاں کرتا ہے، جس میں وہ دہشت میں یقین رکھنے والے تنگ نظر لوگوں سے امن پسند افراد کو محفوظ رکھنے کا کام انجام دیتے ہیں۔ تنگ نظر افراد لوگوں اور برادریوں کو اندھی تقلید کا درس دیتے ہیں‘‘۔

یہ حملہ ایسے وقت ہوا تھا جب افغانستان پر سویت چڑھائی کی 38ویں برسی کی یاد منانے کے لیے صحافیوں کے ساتھ ایک پینل مباحثہ جاری تھا۔ داعش نے ثقافتی مرکز پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جس عمارت میں خبر رساں ادارے، ’افغان وائس‘ کا دفتر بھی واقع تھا۔ افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق، سید مہدی حسینی ’جمہور نیوز ایجنسی‘ سے وابستہ صحافی تھے۔

یونیسکو کے دستور کی شق یکم کی رو سے ادارے کے سربراہ آزادی صحافت کی خلاف ورزیوں سے متعلق بیان جاری کرتے ہیں، جو اُن کے مقاصد کا آئینہ دار ہے جس میں صحافیوں کے تحفظ اور استثنیٰ کے معاملے سے متعلق حکمت عملی کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG