رسائی کے لنکس

صحافی ہارون خان کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے لانے کا مطالبہ


پاکستانی طالبان کے ترجمان نے ہارون خان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ انٹیلی جنس اور سرکاری اداروں کے لیے کام کرتے تھے جس کی بنیاد پر اُنھیں نشانہ بنایا گیا۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے سائنس، ثقافت اور تعلیم ’یونیسکو‘ کی ڈائریکٹر جنرل ارینا بوکووا نے رواں ماہ پاکستان کے شمالی مغربی علاقے میں ایک صحافی ہارون خان کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔

یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل نے اپنے ایک بیان میں پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اس قتل کی تحقیقات کریں اور اس کے قصور واروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

اپنے بیان میں ارینا بوکووا نے کہا ہے کہ میڈیا سے وابستہ افراد کے خلاف تشدد کے اقدامات میں ملوث عناصر کو سزا دی جائے کیوں کہ اس طرح کے واقعات سے صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہارون خان مختلف نشریاتی اداروں بشمول وقت نیوز اور مشرق ٹی وی سے وابستہ تھے۔

اُنھیں صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے صوابی میں 12 اکتوبر کو اُن کے گھر کے باہر مسلح افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

ہارون خان کے اہلِ خانہ اور عینی شاہدین کے مطابق وہ نماز عشا کے بعد مسجد سے جب اپنے گھر کے باہر پہنچے تو اُنھیں نشانہ بنایا گیا۔

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو بھیجے گئے ایک بیان میں ہارون خان کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

پاکستانی طالبان کے ترجمان نے ہارون خان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ انٹیلی جنس اور سرکاری اداروں کے لیے کام کرتے تھے جس کی بنیاد پر اُنھیں نشانہ بنایا گیا۔

ہارون خان کے قتل کے بعد ملک بھر میں صحافتی تنظیموں خاص طور پر خیبر یونین آف جرنلسٹس کی طرف سے شدید مذمت کرتے ہوئے مجرموں کی گرفتاری کے مطالبات کیے گئے تھے۔

پاکستان کا شمار صحافیوں کے لیے خطرناک ترین تصور کیے جانے والے ملکوں میں ہوتا ہے اور گزشتہ ایک دہائی میں درجنوں صحافی اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے مارے جا چکے ہیں۔

پاکستان میں صحافیوں کی ایک نمائندہ تنظیم ’پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس‘ یعنی ’پی ایف یو جے‘ کے صدر افضل بٹ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ ملک میں سال 2000ء کے اوائل سے اب 120 صحافی مارے جا چکے ہیں۔

اُن کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ خصوصی ٹربیونل قائم کیے جائیں تاکہ صحافیوں کے قتل کے مقدمات کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکے اور قاتلوں کو سزائیں مل سکیں۔

حکام بشمول وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کہہ چکی ہیں کہ صحافیوں کے تحفظ و فلاح و بہبود کے علاوہ ایسی قانون سازی کی جا رہی ہے جس کے تحت صحافیوں کے قتل یا اُن پر حملوں کے مقدمات کی پیروی کرنا بھی شامل ہوگا۔

اُنھوں نے بدھ کو بھی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اس حوالے سے کہا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے مسودہ قانون جلد لایا جا رہا ہے۔

افضل بٹ نے صوبہ بلوچستان میں مسلح تنظیموں کی طرف سے دھمکیوں کے بعد اخبارات کی ترسیل نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دھمکیوں کے بعد اخبارات تقسیم کرنے والے ہاکروں اور ٹرانسپوٹروں نے اخباروں اور رسائل کی تقسیم سے انکار کر دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG