رسائی کے لنکس

logo-print

پُرتشدد انتہا پسندی ’سرطان‘ کی مانند ہے: اوباما


مسٹر اوباما نے کہا کہ سر قلم کرکے، بچوں پر گولیاں چلا کر، لاشوں کو اجتماعی قبروں میں ٹھونس کر اور مذہبی اقلیتوں کو فاقہ کشی پر مجبور کرکے، اس شدت پسند گروہ نے عراق اور شام میں بے گناہ لوگوں میں دہشت بٹھا رکھی ہے

صدر براک اوباما نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ دولت اسلامیہ کو ’نہایت کمزور اور نیست و نابود کرنے‘ کی عالمی کوششوں کا ساتھ دیں۔

بدھ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے، مسٹر اوباما نے کہا کہ سر قلم کرکے، بچوں پر گولیاں چلا کر، لاشوں کو اجتماعی قبروں میں ٹھونس کر اور مذہبی اقلیتوں کو فاقہ کشی پر مجبور کرکے، اس شدت پسند گروہ نے عراق اور شام میں بے گناہ لوگوں میں دہشت بٹھا رکھی ہے۔

امریکی صدر نے دنیا، خصوصی طور پر مسلمان ملکوں پر زور دیا کہ وہ داعش اور القاعدہ کے نظرئے کو ’مؤثر طور پر‘ مسترد کردیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ’تشدد پر مبنی انتہا پسندی کا سرطان‘ کا خاتمہ لایا جائے۔

مسٹر اوباما نےیوکرین کے بحران پر ’روسی جارحیت‘ کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روس جنگ تھوپ کر پیدا کی گئی صورت حال پر بھی نا خوش ہے۔

مزید برآں، اُنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایبولہ وائرس کے پھیلاؤ پر کنٹرول کے لیے وسیع تر عالمی کوششیں کی جائیں، جس کے باعث مغربی افریقہ میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اس سے قبل، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ انتہاپسند گروہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی برادری کے لیے ایک واضح خطرہ ہے۔

اپنے خطاب میں، صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ اپنے مفادات کا دفاع کرنے یا حقوق انسانی کے اقوام متحدہ کے اعلامیے کے عہد پر عمل درآمد سے کبھی نہیں ہچکچائے گا، کیونکہ امن تب ہی آسکتا ہے جب زندگی میں بہتری لائی جائے، نا صرف یہ کہ لڑائی سے بچا جائے۔

ایک سو چالیس سے زائد ملکوں کے رہنما اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG