رسائی کے لنکس

logo-print

دولتِ اسلامیہ سے جنگ میں عرب ممالک ساتھ ہیں، صدر اوباما


مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ داعش کے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں پانچ عرب ممالک امریکہ کے اتحادی ہیں۔ اُن کے الفاظ میں: ’اتحاد کی اِس طاقت سے یہ بات واضح ہوجانی چاہیئے کہ یہ اکیلے امریکہ کی جنگ نہیں ہے‘

امریکی صدر براک اوباما نے منگل کے روز کہا کہ امریکی قیادت میں شام کے اندر کی جانے والی فضائی کارروائیوں کا مقصد یہ ہے کہ دہشت گردوں کے ’محفوظ ٹھکانوں‘ کو تباہ کیا جائے، جب کہ امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مربوط حملہ ’انتہائی کامیاب‘ رہے۔

پینٹاگان میں امریکی فوج کے ترجمان، ریئر ایڈمرل جان کِربی نے بتایا ہے کہ یہ فضائی کارروائی ،جِس دوران علی الصبح مشرقی اور شمالی شام کے علاقوں پر بمباری کی گئی، داعش کے شدت پسند گروہ کے خلاف وسیع تر اتحاد کی کوششوں کا ’محض ایک آغاز‘ تھا، جو شام میں سرگرم عمل ہے، اور اُس نے حالیہ مہینوں کے دوران عراقی سرزمین کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ جما لیا ہے۔

اس سے قبل، اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہونے سے قبل، وائٹ ہاؤس سے خطاب کرتے ہوئے، مسٹر اوباما نے کہا کہ منگل کے روز کی گئی اس فضائی کارروائی کا ہدف القاعدہ بھی تھا، خصوصی طور پر اُس کے صف اول کے شدت پسند، جنھیں ’خراسان گروپ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

صدر نے کہا کہ خراسان گروپ امریکہ پر حملہ کرنے کی ’واضح‘ منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

مسٹر اوباما کے بقول، ’کوئی بھی شخص جو امریکہ کے خلاف کسی سازش میں ملوث پایا گیا، یا جو امریکیوں کو گزند پہنچانے کا درپے ہو، اُس پر یہ بات واضح ہوجانی چاہیئے کہ ہم دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے برداشت نہیں کریں گے، جو ہمارے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہوں۔‘

بحرین، قطر، سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات نے اِن فضائی حملوں میں حصہ لیا۔ فضائی کارروائی میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کی طرف سے مشرقی شام میں کی جانے والی کارروائیوں کے ٹھکانوں اور تربیتی احاطوں کو نقصان پہنچایا گیا یا اُنھیں تباہ کیا گیا۔ ساتھ ہی، شدت پسند گروہ کے ہیڈکوارٹر اور ایک مالی مرکز کو مسمار کیا گیا۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف اِس لڑائی میں پانچ عرب ممالک امریکہ کے اتحادی ہیں۔

صدر کے بقول، ’اتحاد کی اِس قوت سے یہ بات واضح ہوجانی چاہیئے کہ یہ اکیلے امریکہ کی جنگ نہیں ہے۔‘

نگرانی پر مامور ایک گروپ کا کہنا ہے کہ شام میں کی جانے والی تازہ ترین فضائی کارروائیوں کے دوران 120 شدت پسندہلاک ہوئے۔

لندن میں قائم ’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘، رمی عبدالرحمٰن نے بتایا ہے کہ بمباری کے نتیجے میں کم از کم 300 افراد ہلاک و زخمی ہوئے، جس میں دولت اسلامیہ اور القاعدہ کے ارکان شامل ہیں۔

امریکی قیادت والے اس اتحاد کی وسیع تر فضائی کارروائی کا مقصد اِن دونوں گروہوں کو نیست و نابود کرنا ہے۔ اس سے قبل کی جانے والی بمباری عراق کے شدت پسند ٹھکانے پر مرکوز تھیں۔

پینٹاگان کے ایک ترجمان، میرین لیفٹیننٹ کرنل جیف پول نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس کارروائی میں لڑاکا طیارے، بمبار اور سمندری جہاز، جو کروز میزائل فائر کر رہے تھے۔

XS
SM
MD
LG